رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کے خلاف بھارت سے مکمل تعاون کیا جائے گا: پاکستان


اجلاس میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ہونے والے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں بھارت سے رابطہ رکھا جائے گا۔

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا ایک اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں بھارت کے علاقے پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے ایک اڈے پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان میں پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے کی ایک بار پھر شدید مذمت کرتے ہوئے، خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھارت سے مکمل تعاون کے عزم کو دہرایا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔

بیان کے مطابق اجلاس میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ہونے والے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں بھارت سے رابطہ رکھا جائے گا۔

جمعرات کو بھارت کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ پاکستان پٹھان کوٹ حملے کے بارے میں فراہم کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر اس حملے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات رواں ماہ اسلام آباد میں متوقع ہیں، لیکن پٹھان کوٹ حملے کے بعد بات چیت کے اس عمل کے بارے میں بھی شکوک و شہبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب مسعود خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا عمل کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔

’’پاکستان نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم ہر طرح سے ہندوستان کے ساتھ تحقیقات میں مدد کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے کوئی معلومات بھی ہمیں باہم پہنچائی ہے تو ہم ان کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن ہماری یہ خواہش ہے کہ ہندوستان بالغ نظری کا ثبوت دے اور اس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے مذاکرات میں رخنہ اندازی ہو یا مذاکرات موخر ہوں‘‘۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ بہت کوشش کے بعد مذاکرات کا عمل بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔

’’پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے تو دیکھنا یہ چاہیئے کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جو ہندوستان اور پاکستان کے مذاکرتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تو اس کی وجہ سے سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔‘‘

گزشتہ ہفتے کو پاکستانی سرحد کے قریب بھارت کے علاقے پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں بھارتی فوج کے سات اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی چھ حملہ آور مارے گئے۔

فضائی اڈے پر حملے کے دوران 22 بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے۔

پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب دونوں ملکوں کے تعلقات میں قدرے بہتری دیکھی جا رہی تھی۔ 25 دسمبر 2015 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کابل سے وطن واپس جاتے ہوئے پاکستان میں مختصر قیام کیا تھا۔

2004ء کے بعد بھارت کے کسی بھی وزیراعظم کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا، اس دورے کے دوران اُن کی پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں نمایاں پیش رفت کی توقع کی جا رہی تھی۔

وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان سے قبل بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے دسمبر 2015 میں اسلام آباد آئی تھیں اور اس دوران ان کی پاکستانی وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات میں دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG