رسائی کے لنکس

logo-print

فلپائن نے کرونا وائرس کے پیش نظر 10 ہزار قیدی رہا کر دیے


فلپائن کے جنوبی ضلع کوٹاباٹو کی ایک جیل، فائل فوٹو

فلپائن کی سپریم کورٹ کے ایک عہدے دار نے ہفتے کے روز بتایا کہ گنجائش سے زیادہ بھری جیلوں کو کرونا وائرس کے خطرے سے بچانے کے لیے 10 ہزار سے زیادہ قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس، ماریو وکٹر لیونین نے صحافیوں کو بتایا کہ نچلی عدالتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ جیلوں میں بند ان قیدیوں کو رہا کر دیں جو اپنے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اپنی ضمانت کرانے کے لیے رقم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالت ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کی صورت حال سے آگا ہ ہے۔ لیونین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے 9731 قیدیوں کو رہائی مل جائے گی۔

فلپائن کے کچھ حصوں کی جیلوں میں کرونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات ہیں جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ ان جیلوں میں وائرس قیدیوں اور جیل کے عملے کے ارکان دونوں میں ہی منتقل ہوا ہے۔

فلپائن کی جیلوں میں سماجی فاصلے پر عمل ناممکن ہے، کیونکہ وہ اکثر اوقات ان کوٹھڑیوں میں، جہاں ایک قیدی رکھا جانا چاہیے، پانچ پانچ قیدیوں کو ٹھونسا جاتا ہے۔

ملک کی جیلوں میں صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کی جانب سے 2016 میں منشیات کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد کی گرفتاریوں سے جیلوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑا ہے۔

ملک میں سب سے زیادہ بری حالت منیلا کے مضافاتی علاقے کوینزون سٹی جیل کی ہے جہاں بہت سے قیدیوں کو سیڑھیوں اور کھلے آسمان تلے باسکٹ بال گراؤنڈ میں سونا پڑتا ہے۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی جزیرے سیبو کی دو جیلوں میں حالت اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ 8000 قیدیوں میں سے 348 کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔

قیدیوں میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کے بعد انسانی حقوق کے گروپس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان قیدیوں کو فوری رہا کرے، جو بوڑھے اور بیمار ہیں یا جو معمولی جرائم پر سزا بھگت رہے ہیں۔

فلپائن میں ہفتے کے روز تک کرونا وائرس کے 9000 کے لگ بھگ مریض تھے اور 603 اموا ت ہو چکی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG