رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس نے بنگلہ دیش کی لاکھوں خواتین کو بے روزگار کر دیا


بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری 40 لاکھ افراد کو روزگار مہیا کرتی ہے، جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سلے سلائے کپڑوں کی صنعت سے وابستہ لگ بھگ 20 لاکھ کارکنوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر آرڈر منسوخ ہونے سے ہزاروں گارمنٹ فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور کارکنوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ گارمنٹ فیکٹریوں میں زیادہ تر خواتین کام کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا بھر میں سلے سلائے کپڑوں کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔ بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات 32 ارب ڈالر ہیں جن میں گارمنٹس کا حصہ 83 فی سے زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش میں گارمنٹس کے چھوٹے بڑے 5 ہزار کے قریب یونٹس ہیں جو 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ کارکنوں کی اوسط ماہانہ اجرت 100 ڈالر سے قدرے زیادہ ہے۔ گارمنٹ انڈسٹری کے پھلنے پھولنے سے بنگلہ دیش میں غریبی کم کرنے میں مدد ملی ہے اور بہت سے لوگوں کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوا ہے۔

فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگار ہونے والی خواتین بہت پریشان ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے بچوں کو خوراک مہیا کرنا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کب تک جاری رہتا ہے اور کب مارکیٹیں کھلتی ہیں اور فیکٹریوں کو آرڈر ملنا شروع ہوتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں سماجی فاصلوں اور دیگر حفاظتی انتظامات کے تحت گارمنٹ انڈسٹری کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے اور لگ بھگ دو لاکھ کارکن اپنے کام پر واپس آ چکے ہیں۔ لیکن، فیکٹریوں میں پوری سطح پر کام شروع نہیں ہو سکا، جس کی وجہ بیرونی آرڈرز کی بڑے پیمانے پر منسوخی ہے۔

بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری زیادہ تر یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں کے لیے کام کرتی ہے جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ اور انہوں نے اپنے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، منسوخ ہونے والے آرڈرز کی مالیت 3 ارب ڈ الر سے زیادہ ہے۔

کئی فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ منسوخ ہونے والے بعض آرڈر مکمل ہو چکے تھے اور صرف انہیں بھیجنا باقی رہ گیا تھا۔ بہت سے آرڈرز پر کام ہو رہا تھا اور وہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھے، بہت سے آرڈرز کے لیے کپڑا اور دوسرا سامان خریدا جا چکا تھا، مگر 72 فی صد سے کمپنیوں نے اس کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے پاس تالہ لگانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹس کے شعبے کے متاثرین کے لیے 588 ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس پر 2 فی صد سود لیا جائے گا۔ گارمنٹ انڈسٹری نے اسے ناکافی قرار دے کر کہا ہے کہ اس رقم سے محض ایک مہینے کی تنخواہیں ادا کی جا سکتی ہیں۔

لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد کئی فیکٹریوں میں کام شروع ہو گیا ہے مگر بہت سے کارکن اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انہیں وائرس نہ لگ جائے؛ کیونکہ، اکثر فیکٹریاں بہت چھوٹی جگہوں پر قائم ہیں اور کام کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں ہفتے کے روز تک تقریباً 8800 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی اور اموات کی تعداد 175 تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG