رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان امن معاہدے پر امریکی قانون سازوں کے شکوک و شبہات


29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہونے بعد امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان لیڈر ملا عبدالغنی بردار مصافحہ کر رہے ہیں۔

امریکی ایوان کی امور خارجہ کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی پر تشدد کاروائیوں نے طالبان کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ وہ فروری میں ہونے والے معاہدے کے وعدوں کو پورا کرنے میں مخلص ہیں یا نہیں۔

ڈیموریٹک پارٹی کے رکن ایلیٹ اینگل اور ری پبلکن پارٹی کے رکن مائیکل میک کال نے کہا ہے کہ 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد افغانستان میں پر تشدد واقعات میں غیر معمولی اضافہ معاہدے کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے۔

دونوں اراکین نے جمعہ کو ایک مشترکہ بیان میں یہ بات کہی کہ افغان فورسز پر طالبان کے مسلسل حملوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طالبان اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر رہے ہیں اور امن اور مذاکرات کے عمل کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

پر تشدد کارروائیوں کے ساتھ ملک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان حالات میں افغان حکومت صحت کے بحران پر توجہ مرکوز نہیں کر پا رہی۔ اینگل اور میک کال نے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کریں اور امن کی راہ اختیار کریں۔

اس سے قبل منگل کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا تھا کہ طالبان اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا افغان حکومت بھی اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہی ہے۔

معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں میں مزید شدت آئی ہے۔ تازہ ترین حملے میں خوست صوبے میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے صوبائی پولیس کے سربراہ اور دو افراد ہلاک ہوئے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب امریکہ کے افغان امن کے لیے سفیر زلمے خلیل زاد نے جمعرات کو کہا تھا کہ انہوں نے قطر میں طالبان لیڈروں سے تشدد میں کمی اور معاہدے سے متعلق دیگر امور پر بات چیت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG