رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں تشدد میں اضافہ، کیا طالبان کئی گروپ میں بٹ گئے ہیں؟


فائل فوٹو

سیکیورٹی ذرائع کی مطابق افغان طالبان نے صوبے ہلمند میں اتوار کی رات ایک افغان فوجی اور انٹییلی جینس کے اڈے پر حملے کی ذمہ داری کا دعوی کیا ہے۔ جس میں کم از کم سات افراد مارے گئے اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے۔

وائس آف امریکہ کی عائشہ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس حملے کی تصدیق کئی افغان حکام نے کی ہے، جن میں ہلمند کے گورنر کے ترجمان بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم بتائی ہے۔

طالبان نے جس بیان میں اس حملے کی ذمہ داری کا دعوی کیا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ فروری میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بار بار کی خلاف ورزیوں اور ان علاقوں میں رہنے والے شہریوں پر حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے جو طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں رہتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ طالبان کے معاہدے کو کئی ماہ ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں بظاہر فوری طور پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو پا رہی ہے۔ اور افغان امور کے ماہرین کی آرا بھی اس بارے میں منقسم ہیں۔

ممتاز افغان صحافی اور تجزیہ کار انیس الرحمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں کی جانب سے قیدی رہا کئے جا رہے ہیں اور بات آگے بڑھ رہی ہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اشرف غنی اور عبدللہ عبدللہ کے درمیان اختلافات بڑی پیش رفت کی راہ میں حائل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جلد ہی کوئی بات آگے بڑھ سکے گی لیکن ان کو کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا، اس لئے کہ اب عام لوگ اس صورت حال سے اکتا چکے ہیں۔ اور ان دو فریقوں کے علاوہ دوسرے بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں جو معاملات کو حل کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بھارت کے اس معاملے میں کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت، افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اگر پاکستان اور ایران بھی ایسا ہی کرتے تو حالات بہت مختلف ہوتے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ خود طالبان بھی نہیں چاہتے کہ بھارت سمیت کسی بھی ملک سے ان کے تعلقات خراب ہوں اس لئے اگر بھارت کو کچھ اندیشے ہیں بھی تو وہ بے بنیاد ہیں۔

افغان امور کے ایک اور ماہر لندن میں مقیم افغان صحافی اور تجزیہ کار میر ویس افغان نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بقول ان کے مذکورہ معاہدے کے سبب خود طالبان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور طالبان اس وقت تین دھڑوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا بقول ان کے حالات ایسے نظر آتے ہیں کہ یہ معاہدہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ یہ معاہدہ برسر اقتدار لوگوں کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ جلد ہی اشرف غنی اور عبدللہ عبدللہ کے درمیان اختلافات طے ہو جائیں گے اور ان کے مفادات پھر مشترک ہو جائیں گے۔ جس کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کی توقع ایک سراب کی جانب دوڑنے کے مترادف ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG