رسائی کے لنکس

زمبابوے کی نئی حکومت پر نئے روزگار پیدا کرنے کا دباؤ


زمبابوے کے نئے صدر ایمرسن دارالحکومت ہرارے میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں۔ 24 نومبر 2017

نئے صدر ایمرسن مینگاگوا نے اپنی حلف برداری کے موقع پر زمبابوے کے نوجوانوں کو امید کی ایک کرن دکھائی ہے۔  انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ معیشت کو بہتر کریں گے اور طالب علموں کا منصوبہ ہے کہ وہ ان سے اس وعدے کی پاسداری کرائیں گے۔

زمبابوے میں فعال اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے جن میں بہت سے کالج گریجوایٹ ہیں ۔ لیکن اس ملک میں جس چیز کی کمی ہے وہ ہیں روزگار کے مواقع اور نئی حکومت پر یہ دباؤ ہے کہ وہ صورتحال میں تیزی سے نمایاں تبدیلی لائے۔ وائس آف امریکہ نے دارالحکومت ہرارے کی سڑکوں پر موجود کچھ نوجوانوں سے بات کی جن کا کہناتھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئے صدر اپنے وعدے پورے کریں اور مزید نوجوانوں کو سرکاری قیادت میں آنے کی اجازت دیں۔

زمبابوے کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری رکھنے والے ایک 23 سالہ نوجوان انوسینٹ کاڈگورا نے 2015 میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سڑک کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دن میں 14 گھنٹوں تک ٹیلی فون بیچتے ہیں۔ان کے ساتھی انہیں کامریڈ گریجو ایٹ کہتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دن میں دس ڈالر کما کر گھر جاتے ہیں جو اپنے والد کی مدد کے لیے کافی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے والد کو یہ کہتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ان کا بیٹے کے پاس ایک ڈگری ہے اور وہ زمبابوے میں کافی تعلیم ہے لیکن وہ اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ مہینے بھر کے لیے گھر میں کھانے پینے کی چیزیں فراہم کر سکے۔

نئے صدر ایمرسن مینگاگوا نے اپنی حلف برداری کے موقع پر زمبابوے کے نوجوانوں کو امید کی ایک کرن دکھائی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ معیشت کو بہتر کریں گے اور طالب علموں کا منصوبہ ہے کہ وہ ان سے اس وعدے کی پاسداری کرائیں گے۔ ان کی صدارت کے پہلے دن طالب علم راہنماؤں نے نوجوانوں کے ووٹوں کو اگلے سال کے طے شدہ انتخابات کے لیے متحرک کرنے کے لیے ہرارے میں اجلاس کیا۔

ایک طالب علم لیڈر اور ایک سر گرم کارکن اوسٹالوس سیزیبا کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی طور پر ان پریہ زور دے رہے ہیں کہ انہوں نے جن چیزوں کا وعدہ کیا تھا اس کی پاسداری کریں ۔ ہر شہری، ہر نوجوان ان چیزوں کو حقیقت بنتے دیکھنے کا منتظر ہے۔

کاڈگورا کی طرح کے کچھ نوجوان، نوجوانوں کو بااثر عہدوں پر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹیکنو کریٹس چاہییں نہ کہ حکومت کے خوشامدی، جنہیں ان عہدوں پر رکھا گیا ہے ۔ اگر ہمارے پاس ٹیکنوکریٹس ہوں گے تو میرا خیال ہے کہ وہ نمایاں خدمات انجام دے سکیں گے ۔تو ہم اپنی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ یہ کہے کہ فرانس کو دیکھیں جہاں دنیا کا ایک سب سے کم عمر نوجوان ملک کا لیڈر ہے، اس لیےمیر ا خیال ہے کہ ہمارے ملک کے لیے یہ ایک احساس ہے کہ نوجوان آج اور کل دونوں کے لیڈرز ہیں۔

اپنے اجلاس میں بہت سے طالب علموٕ ں نے کہا کہ وہ پر امید ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ راہنما اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں اور ماضی کی شان و شوکت کی بجائے مستقبل پر توجہ مرکوز کریں۔

نیاشا شو کے پاس نفسيات کے شعبے میں ڈگری رکھتی ہیں کہتی ہیں کہ اگر آپ انہیں سنیں تو، اپنی بیشتر تقارير میں وہ ابھی تک آزادی کی جدو جہد کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جو کچھ کیا میں اسے سراہتی ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس موضوع پر بات کرنا ختم کریں ۔ ہم اس وقت جن موضوعات پر بات کر رہے ہیں وہ اس دنیا میں فٹ نہیں ہوتے جس میں ہم اس وقت موجود ہیں۔

اور پولیٹیکل سائنس کے شعبے میں ڈگری رکھنے والے نادین مسکیوا کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ حکومت میں نئی تبدیلی کے ساتھ حالات بہتر ہوجائیں گے۔

وہ اپنے بعد آنے والے نوجوانوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ مثلاً سولہ سالہ کام بیو جسے اسکول کے معمول کے ایک دن پر ہرارے کی سڑک کے اس کنارے گیارہ، گیارہ ڈالر کے جوتے بیچنے کے لیے در حقیقت یہاں موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسکول کی فیس دینے کی استطاعت رکھتا تو وہ کوئی بڑے کام کر سکتا تھا۔

کام بیو کا کہنا ہے کہ میں سیاست کرنا چاہتا ہوں، میرا خیال ہے کہ میں سیاست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں ۔

زمبابوے کے نئے صدر اقتصادی إصلاحات کا ایک بڑا پروگرام شروع کر چکے ہیں اور زمبابوے کے لاکھوں پر جوش، باصلاحیت نوجوان ان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG