رسائی کے لنکس

موگابے کا مستعفی ہونے سے انکار، مواخذے کا سامنا


قوم سے خطاب سے قبل صدر موگابے ملک کے فوجی سربراہ سے مصافحہ کر رہے ہیں

صدر موگابے نے اپنے خطاب میں گزشتہ ہفتے ملک کا سیاسی بحران شدید ہونے پر فوج کی جانب سے مداخلت سے متعلق بھی کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔

زمبابوے کے 93 سالہ صدر رابرٹ موگابے نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے جس کےبعد امکان ہے کہ انہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

صدر موگابے نے اتوار کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا تھا جس کے دوران لوگوں کو امید تھی کہ وہ اپنے 37 سالہ طویل اقتدار سے دستبرداری کا اعلان کریں گے۔

تاہم اپنے خطاب میں صدر موگابے نے اپنے استعفے سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ وہ حکمران جماعت 'زانو – پی ایف' کی کانگریس کے آئندہ ماہ ہونے والے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

صدر موگابے نے اپنے خطاب میں گزشتہ ہفتے ملک کا سیاسی بحران شدید ہونے پر فوج کی جانب سے مداخلت سے متعلق بھی کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔

اس کے برعکس ان کا کہنا تھا کہ فوج کی کارروائی سے زمبابوے کے آئینی نظام کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی اس کےنتیجے میں بطور سربراہِ مملکت اور فوج کے کمانڈر ان چیف کی ان کی حیثیت اور اختیار کو کوئی خطرہ ہے۔

سیاسی نظام میں فوج کی مداخلت کے بعد حکمران جماعت 'زانو – پی ایف' نے صدر موگابے کو اقتدار سے الگ ہونے کے لیے پیر کی دوپہر تک کا وقت دیا ہے ورنہ انہیں پارلیمان کی جانب سے مواخذے کی تحریک کا سامنا کرنا ہوگا۔

حکمران جماعت نے موگابے کو پارٹی کی صدارت سے بھی برطرف کردیا ہے اور صدر کی جانب سے برطرف کیے جانے والے نائب صدر ایمرسن ننگگوا کو پارٹی کا نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

پارٹی کے ایک مرکزی رہنما لوومور مٹوکے نے امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو کرتے ہوئے صدر موگابے کے خطاب کو "حیران کن" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم سے خطاب میں موگابے کی جانب سے استعفے کا اعلان متوقع تھا اور پارٹی کی خواہش تھی کہ وہ مواخذے کی ہزیمت سے بچنے کے لیے باعزت طریقے سے اقتدار سے رخصت ہوجائیں۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے صدر موگابے دارالحکومت ہرارے کے نزدیک واقع اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں جہاں ان کی اقتدار سے رخصتی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

زمبابوے 1990ء کی دہائی سے شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے لیکن صدر موگابے کی اقتدار پر آہنی گرفت کے باعث ماضی میں ملک میں سیاسی تبدیلی کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہیں۔

حالیہ کشیدگی کا آغاز صدر موگابے کی جانب سے اپنے نائب صدر ننگگوا کو برطرف کرنے سے ہوا تھا جو عوام اور فوج میں خاصے مقبول ہیں اور انہیں صدر موگابے کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔

نائب صدر کی برطرفی سے اس تاثر کی تقویت ملی تھی کہ صدر موگابے اپنی اہلیہ گریس کو اپنا جانشین نامزد کرنے والے ہیں جن کی شاہ خرچیوں اور پرتعیش طرزِ زندگی کے کئی اسکینڈل ماضی میں منظرِ عام پر آچکے ہیں۔

نائب صدر کی برطرفی کے بعد ان کے حامی آرمی چیف کی قیادت میں فوجی دستوں نے گزشتہ ہفتے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کئی ریاستی اداروں پر قبضہ کرلیا تھا اور صدر موگابے کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا تھا۔

ترانوے سالہ موگابے دنیا کے سب سے معمر سربراہِ مملکت ہیں جو 1980ء میں زمبابوے کی برطانیہ سے آزادی کے بعد پہلے ملک کے وزیرِاعظم اور پھر صدر بنے تھے۔

موگابے بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ 2018ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی بطور امیدوار حصہ لیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG