رسائی کے لنکس

logo-print

ملزم نے 20 سال قید بھگتی، پھر کسی اور نے اقبال جرم کرلیا


واقعے پر بنائی گئی فلم میموریز آف مرڈر کا ایک منظر

جنوبی کوریا میں ایک شخص نے 13 سالہ لڑکی کو ریپ اور قتل کرنے کے الزام میں 20 سال قید بھگتی۔ وہ جیل سے باہر نکلا تو ایک اور ملزم نے جرم کا اعتراف کرلیا۔

یہ عجیب و غریب واقعہ دارالحکومت سول کے قریب ایک قصبے میں پیش آیا۔ 1988 میں اس لڑکی کو گھر میں مجرمانہ حملے کے بعد جان سے مار دیا گیا تھا۔ ایک سال بعد پولیس 22 سالہ یون کے گھر آئی اور اسے گرفتار کرلیا۔

یون سے تین دن تک تفتیش جاری رہی جس کا انجام اقبال جرم پر ہوا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ واردات کی رات وہ اپنی پولیو زدہ ٹانگوں کے ساتھ لنگڑاتا ہوا چہل قدمی کررہا تھا کہ ایک گھر میں روشنی دیکھ کر اس میں کود گیا۔ لڑکی کے برابر والے والدین سو رہے تھے۔ اس نے ریپ کے بعد لڑکی کو قتل کیا اور اس کے کپڑے جلا دیے۔

عدالت نے اسے عمر قید کی سزا دی جو اپیل کے بعد کم کردی گئی۔ 20 سال قید بھگتنے کے بعد یون کو رہا کردیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، اس علاقے ہواسیونگ میں 1986 سے 1991 تک 10 خواتین کو مجرمانہ حملے کے بعد قتل کیا گیا۔ ان ہی کے کپڑوں سے ان کا گلا گھونٹا گیا۔ ان میں اسکول کی طالبات سے لے کر 71 سال کی خانہ دار خاتون تک شامل تھیں۔

ابتدائی واردتوں کی تفتیش مقامی پولیس نے کی۔ لیکن تین قتل ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس کی تحقیقات میں قریبی شہر کی پولیس بھی شامل ہوگئی۔ میڈیا نے اسے سیریل کلر کی وارداتیں قرار دے کر وسیع پیمانے پر کوریج دینا شروع کردی۔

ان دس میں سے نو وارداتوں کے ملزم کا سراغ نہیں ملا۔ صرف یون کو ایک قتل کا ملزم ٹھہرایا گیا۔ پولیس کے مطابق اس نے یہ سوچ کر موقع سے فائدہ اٹھایا کہ اس کا الزام سیریل کلر کو دے دیا جائے گا۔ وہ واحد واردات تھی جو گھر کے اندر ہوئی۔ باقی قتل باہر ہوئے تھے۔

ان پراسرار وارداتوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکا۔ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم پیراسائٹ کے ڈائریکٹر بونگ جون ہو نے 2003 میں اس پر ایک فلم میموریز آف مرڈر بنائی۔ عام خیال تھا کہ مجرم کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن پولیس نے تین عشرے گزرنے کے باوجود تلاش ختم نہیں کی۔

2019 میں اس کیس کی تحقیقات کے انچارج نے جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور دستیاب شواہد کو ڈی این اے کے لیے بھیجا۔ کم از کم تین وارداتوں کے شواہد سے ملنے والا ڈی این اے ایک شخص لی چن جائی کا ثابت ہوگیا۔ پولیس نے ستمبر 2019 میں اس کا انکشاف کیا۔ جنوبی کوریا میں بہت بڑی خبر تھی۔

لی چن جائی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی جیل میں ہے۔ اس نے 1994 میں اپنی سالی کو ریپ کے بعد قتل کردیا تھا اور اس جرم پر پکڑا گیا تھا۔ تفتیش کی گئی تو اس نے نہ صرف ان دس وارداتوں کا اعتراف کرلیا بلکہ چار مزید قتل بھی مان لیے جن کے بارے میں پولیس نے اس سے پوچھا بھی نہیں تھا۔

تین دہائیوں بعد اتنی بڑی کامیابی پولیس کا بڑا کارنامہ تھی۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک مشکل میں بھی پڑگئے۔ تمام قتل لی چن جائی نے کیے تھے تو یون نے کس جرم میں 20 سال سزا بھگتی؟

وکلا کے مطابق، لی چبن جائی کے اعترافات یون کی بے گناہی کے لیے کافی نہیں۔ وہ قانون کی نگاہ میں اب بھی سزا یافتہ مجرم ہے۔ وہ اب 53 سال کا ادھیڑ عمر شخص ہے اور چمڑے کی ایک فیکٹری میں مشینیں ٹھیک کرنے کا کام کرتا ہے۔

یون نے بتایا کہ وہ معمولی پڑھا لکھا تھا اور پولیس نے اسے تین دن تک سونے نہیں دیا۔ اس کا وہ حال ہوچکا تھا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اس سے جو کہا گیا، اس نے کیا اور اعترافی بیان پر دستخط کردیے۔ وہ قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور اس کا خیال تھا کی جرم کا اعتراف کرنے سے سزا کم ہوجائے گی۔

اب یون کی خواہش ہے کہ اسے جرم سے باعزت بری کیا جائے۔ اس ہفتے اس کا مقدمہ دوبارہ کھولا جارہا ہے جو جنوبی کوریا میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ مقدمہ کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا فیصلہ یون کے حق میں آیا تو وہ ہرجانے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG