رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل توسیع پسندی اور تسلط کا خواہاں ہے: عباس کا بیان


فلسطینی صدر محمود عباس نے کہاہے کہ، اُن کےبقول، اسرائیل کی توسیع پسندی اور تسلط کی ذہنیت اُن کے لوگوں اور مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کو تشدد کی راہ اور تنازعے کی طرف دھکیل رہی ہےجس کے باعث علاقے کے مسائل کے حقیقی حل تک رسائی نہیں ہو پارہی ہے۔

مسٹر عباس نے ہفتے کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو امن اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے میں سے ایک بات کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ ذہنوں میں ایک تصورموجود ہے کہ اسرائیل قانون سے بالیٰ تر ریاست ہے جو اقوإمِ متحدہ کی قراردادوں کو اہمیت نہیں دیتی جِن میں فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسٹر عباس نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے گھر منہدم کرنے کا الزام لگایا، غزہ کی ناکہ بندی کرنے پر نکتہ چینی کی اور اِس بات کی مذمت کی جسے اُنھوں نےنسل پرستی کی دیوار میں توسیع کا نام دیا۔

اُن کے بیان پر فوری طور پر اسرائیلی ردٕ ِ عمل سامنے نہیں آیا۔

فلسطینی رہنما نے عزم ظاہر کیا کہ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری امن بات چیت ایک سال کے اندر ایک جامع معاہدے پر منتج ہو جو کچھ بھی ممکن ہوا وہ کریں گے۔

فلسطینیوں نے بارہا اِس بات کی دھمکی دے رکھی ہے کہ اسرائیل نے میعاد بڑھانے پر غور کرنے سے انکار کیا ہے تاہم اُس کا کہنا ہے کہ وہ سمجھوتہ کرنے کا خواہاں ہے۔ وہ امریکی پشت پناہی میں ہونے والے مذاکرات کا واک آؤٹ کریں گے اگر اسرائیل اتوار کو ختم ہونے والی بستیوں کی تعمیرپر بندش کی میعاد میں توسیع نہیں کرتا۔

مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کے حوالے سے، امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے جمعے کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

اوباما انتظامیہ اسرائیل پر زور دے رہی ہے کہ وہ بستیوں کی نئی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع کردے اور فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات سے الگ نہ ہوں۔

امریکی محکمہ ٴ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دارنے اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ حالیہ بات چیت کو گہری نوعیت کی حامل قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG