رسائی کے لنکس

logo-print

معروف اداکار عابد علی انتقال کر گئے


عابد علی۔ فائل فوٹو

پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم کے معروف اداکار عابد علی جمعرات کی شام انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گزشتہ چند روز سے کراچی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

سڑسٹھ سالہ عابد علی کئی ماہ سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور گزشتہ چند روز سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ اُن کی اہلیہ نے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔

چند روز پہلے جب عابد علی کی طبعیت زیادہ ناساز ہوئی اور اُنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تو ان کی بیٹیوں، راحمہ علی اور ایمان علی نے اپنے والد کے چاہنے والوں سے درخواست کی تھی کہ اُن کے لیے دعا کریں۔

اُن کے انتقال کی خبر پر سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین اظہارِ افسوس کر رہے ہیں۔

معروف اداکارہ ارمینا خان نے لکھا ہے کہ "عابد علی آپ لیجنڈ تھے، ہیں اور ہمیشہ ہماری انڈسٹری کا چمکتا ستارہ رہیں گے۔"

اداکار فیصل قریشی نے ایک ٹوئٹ میں اپنے ایک پیارے دوست اور سینئر اداکار عابد علی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہم سب کے لیے دکھ کا لمحہ ہے۔

یاد رہے کہ اداکار عابد علی 1952 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا جس کے بعد وہ اپنی قسمت آزمانے پاکستان ٹیلی وژن لاہور سے منسلک ہو گئے۔ جہاں 1973 میں اُن کی ڈرامہ سیریل ’جھوک سیال‘ بہت مقبول ہوئی اور پھر ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

عابد علی کو شہرت امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’وارث‘ سے ملی۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے لاتعداد ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اُن کی بے مثال اور منفرد اداکاری پر اُنہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

اداکاری کے بعد عابد علی نے 1993 میں ڈراموں میں ڈائریکشن بھی شروع کی۔ اُن کا پہلا کامیاب ڈرامہ ’دشت‘ تھا۔ جب کہ ’دوسرا آسمان‘ پہلا ایسا ڈرامہ ہے جو ان کی ڈائریکشن میں پاکستان سے باہر پکچرائز ہوا۔

عابد علی نے کئی فلموں میں بھی کام کیا۔ اب جب کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے، ان کی ایک نئی فلم ’ہیرمان جا‘ ان دنوں پاکستانی سینما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے جب کہ جیو ٹیلی وژن سے ان کے دو ڈرامہ سیریلز ، میرا رب وارث‘ اور ’رمز عشق‘ بھی ناظرین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG