رسائی کے لنکس

logo-print

​ابوظہبی ٹیسٹ پاکستان کی گرفت میں، جیت کے لئے 139 رنز درکار


یاسر شاہ اور حسن علی کی شاندار بولنگ کے باعث پاکستان نے ابوظہبی ٹیسٹ پر اپنی گرفٹ مضبوط کرلی۔ میچ میں دو روز کا کھیل باقی ہے اور اُسے جیت کے لئے 139 درکار ہیں جبکہ 10 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

چوتھے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 176 رنز کے تعاقب میں بغیر کوئی وکٹ گنوائے37 رنز بنالئے تھے، امام الحق 25 اور محمد حفیظ 8 رنزکے ساتھ ناٹ آؤٹ ہیں۔ اس سے قبل دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 249 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔

ٹیسٹ کے تیسرے روز کیوی ٹیم نے 56 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر اننگز کو آگے بڑھایا، پاکستان کو پہلی کامیابی کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور یاسر شاہ نے کپتان کین ولیم سن کو 37 رنز پر پویلین بھیج دیا، اس وقت ٹیم کا مجموعی اسکور 86 رنز تھا۔

راس ٹیلر زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 19 رنز پر حسن علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے، جیت راول کو بھی حسن علی نے پویلین کی راہ دکھائی، وہ 46 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

وقفے وقفے سے تین وکٹیں گرنے کی بعد میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط ہوگئی تھی لیکن ہنری نکولز اور ویٹلنگ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے وکٹ گرنے کے سلسلے کو روکا اور پانچویں وکٹ کی شاندار اننگز میں انہوں نے 112 رنز بناکر ناصرف ٹیم کو مشکل سے نکالا بلکہ پاکستان ٹیم کے پلان کے برعکس اسکور میں آسانی کے ساتھ اضافہ کرتے رہے اور ہرسنگل رن کپتان سرفراز کے لئے پریشانی کا باعث بنتا رہا۔

اس موقع پر یاسر شاہ نے نئی گیند کے ساتھ لیگ اسپن بولنگ کا جادو جگایا اور لگا تار چار اوورز میں چار وکٹیں لے کر کیوی ٹیم کو ایک بار پھر بیک فٹ پر دھکیل دیا، یاسر شاہ نے ہنری نکولز، ڈی گرینڈہم، ویٹلنگ اور پھر نیل ویگنر کو آؤٹ کیا، جو بالترتیب 55، 3، 59 اور صفر پر آؤٹ ہوئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میںیہ 14 ویں مرتبہ ہے جب یاسر شاہ نے ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

حسن علی نے بھی آخری دو بیٹسمینوں سودھی اور ٹرینٹ بولٹ کو آؤٹ کرکے اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں۔حسن علی نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس طرح نیوزی لینڈ کی ٹیم دوسری اننگز میں 249رنز بناکر آؤٹ ہوگئی اور پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے 176رنز کا ہدف ملا، جس کے تعاقب میں امام الحق اور محمد حفیظ نے پر اعتماد آغاز فراہم کیا اور کھیل کے اختتام تک بغیر نقصان کے 37 رنز بنالئے تھے۔

XS
SM
MD
LG