رسائی کے لنکس

logo-print

بہت خوش ہوں کہ میری کامیابی کو سراہا جا رہا ہے، زارا نعیم


’’ڈرائنگ، سکیچنگ، میک اپ کا مجھے بہت شوق ہے۔ میرے شوق بہت متنوع ہیں۔‘‘

پاکستانی سوشل میڈیا میں آج کل اے سی سی اے کے فنڈامینٹلز کے امتحان ’’فنانشنل رپورٹنگ‘‘ میں دنیا بھر میں ٹاپ کرنے والی زارا نعیم کا شہرہ ہے۔ ان کا نام ’’پارٹی وہ رہی ہے‘‘ کی میم سے مشہور ہونے والی دنانیر مبین کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ صارفین شکایت کر رہے ہیں کہ جہاں دنانیر کا نام سب کی زبان پر ہے وہیں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی زارا نعیم کو لوگ بھول گئے ہیں۔

زارا کا خیال اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب سے ان کے ٹاپ کرنے کی خبر آئی ہے انہیں ہر جانب سے مبارکبادیوں کے فون آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس موازنے کے سوال پر انہوں نے کہا وہ اس بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتی۔ ان کے خیال میں ایسا موازنہ کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے اور نہ ہی ان کی اس پر توجہ ہے۔

ان کے بقول ’’میری توجہ اس بات پر ہے کہ لوگ میری کامیابی کو بہت زیادہ سراہ رہے ہیں اور یہ پیغام پھیل رہا ہے۔ تو میں اس پر بہت زیادہ خوش ہوں۔‘‘

اپنی کامیابی پر بات کرتے ہوئے زارا نے کہا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ انہوں نے ٹاپ کیا ہے تو انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے دنیا بھر میں ٹاپ کیا ہے۔ ’’واقعی مجھے بہت خوشی اور ’اکسائٹمنٹ‘ تھی اس بات کی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اکاؤنٹنگ بہت پسند ہے، اسی لیے انہوں نے اے سی سی اے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اقرار کیا کہ جب انہوں نے اکاؤنٹنگ شروع کی تھی تو شروع میں انہیں بہت سے مسائل کا سامنا تھا۔ بقول ان کے ’’اکثر لوگوں کا یہی تجربہ ہے اکاؤنٹنگ کے بارے میں۔ جب ان سے اکاؤنٹنگ نہیں ہوتی تو وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ مجھے بھی اس میں کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شروع میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مجھے یہ مضمون بہت پسند تھا، اس لیے میں نے اے سی سی اے کا انتخاب کیا۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ فارغ وقت اکیلے رہنا پسند کرتی ہیں۔ ان کے بقول وہ زیادہ سوشل نہیں ہیں اور ان کا دوستوں کا ایک محدود حلقہ ہے۔ بقول ان کے ’’ایسا نہیں ہے کہ اکاؤنٹنگ بالکل تنہا رہنے والے لوگوں کا مضمون ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ زندگی بھی جی سکتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔ ’’ڈرائنگ، سکیچنگ، میک اپ کا مجھے بہت شوق ہے۔ میرے شوق بہت متنوع ہیں۔‘‘

کرونا وائرس کے دوران لاک ڈاؤن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر رہ رہ کر بھی انسان کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ وہ اکیلے رہ کر پڑھتے رہنا ہی پسند کرتی ہیں بلکہ ہر ہفتے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے جاتی ہیں۔ بقول ان کے کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی وبا نے ’’جیسے سب کو متاثر کیا تھا، مجھے بھی کیا تھا۔‘‘

وبا کے دوران پڑھائی اور اے سی سی اے کے امتحان کے لیے تیاری کے دوران مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران ’’آن لائن کلاسز تھیں۔ دن میں تین سے چار گھنٹے کی کلاسیں ہوتی تھیں۔ آنکھوں پر زور پڑتا تھا، سر میں درد رہتا تھا اور فوکس نہیں ہو پاتا تھا۔‘‘ ان کے بقول اس دوران کلاس کا ماحول نہیں مل رہا ہوتا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ شکایت نہیں کر رہی کیونکہ ان کے استاد بہت اچھے تھے اس لیے انہوں نے ایسی کامیابی سمیٹی۔

آن لائن امتحانات پر طلبا کے احتجاج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔ بقول ان کے ’’کلاسز کا مقصد تو آپ کو سکھانا ہے۔ جو آپ کا امتحان لینا ہے وہ چاہے آپ سے آن لائن لیں یا سینٹر میں بٹھا کر کریں۔ اس سے فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ میں نے بھی سینٹر میں جا کر امتحان دیا تھا۔‘‘

اپنے مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اکاؤنٹیسی میں ہی ترقی کرنا چاہتی ہیں۔ بقول ان کے، اسی شعبے میں تجربہ حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی فرم کھولنا چاہتی ہیں۔

پاکستان میں اکاونٹیسی کے شعبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اب عام ہوتا جا رہا ہے۔ بقول ان کے ’’مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ اس شعبے میں مزید ملازمتیں بڑھ جائیں۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG