رسائی کے لنکس

logo-print

آن لائن کلاسز اور دیگر مسائل کے خلاف پاکستان میں طلبہ کا احتجاج


اسلام آباد میں ہایرایجوکیشن کے دفتر کے سامنے طالب علم احتجاج کر رہے ہیں۔ 15 جون 2020

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے تدریسی عمل کا رائج نظام بہتر طریقہ ثابت نہیں ہوا ہے، لہذا وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آن لائن کلاسز کو ختم کیا جائے۔

پیر کو آن لائن کلاسز کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے نگران ادارے ایچ ای سی کے دفتر کے سامنے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات نے احتجاجی کیمپ لگایا۔

احتجاجی طلبا کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے باعث طلبا مشکلات کے شکار ہیں، مگر ایچ ای سی اور وزارتِ تعلیم میں ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔

اسلام آباد میں کئی یونیورسٹیوں کے طالب علم ایچ ای سی کے سامنے اکھٹے ہوئے ۔15 جون 2020
اسلام آباد میں کئی یونیورسٹیوں کے طالب علم ایچ ای سی کے سامنے اکھٹے ہوئے ۔15 جون 2020

وائس چانسلرز کمیٹی کے سربراہ محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آن لائن کلاسز اور امتحانات میں مسائل ضرور آ رہے ہیں، لیکن کوشش ہے کہ اس عمل سے طلبا متاثر نہ ہوں۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے باعث ملک بھر کی جامعات میں تدریسی عمل معطل ہے اور ایچ ای سی کی جانب سے طلبا کے لئے آن لائن کلاسز کا اجرا کیا گیا ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبا کا مطالبہ ہے کہ آن لائن کلاسوں کا ایک بہتر نظام وضع کرنے تک سکولوں اور کالجوں کی طرح یونیورسٹی طلبا کو بھی اگلے سمیسٹر میں پروموٹ کیا جائے۔

احتجاج میں شریک ایک طالب علم رہنما غازیہ شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث طلبا کا کافی تعلیمی حرج ہو چکا ہے، جس کا ایچ ای سی کو مداوا کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبا آن لائن کلاسز اور امتحانات کے موجودہ نظام سے مطمئن نہیں جس پر وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو اقدامات کرنے چاہئیں۔

احتجاجی طلبا نے یونیورسٹیوں کی جانب سے بے جا فیس کے تقاضے پر ایچ ای سی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ جب کیمپس سہولیات بند ہیں تو طلبا سے ٹیوشن فیس کے علاوہ دیگر مد میں ادائیگیاں کیوں لی جا رہی ہیں۔

غازیہ شاہ کہتی ہیں کہ طلبا کا یہ جائز مطالبہ بھی سنا نہیں جا رہا کہ یونیورسٹی کیمپس اور اس کی دیگر سہولیات طلبا کی دسترس میں نہیں تو ٹیوشن فیس کے علاوہ طلبا سے بھاری رقوم کیوں لی جا رہی ہیں۔

ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کمیٹی کے سربراہ محمد علی شاہ کہتے ہیں موجودہ حالات میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ جامعات کے تدریسی عمل کو جاری رکھنے کے لئے آن لائن کلاسز ہی بہترین راستہ ہے کیونکہ وبا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ جامعات کب تک کھلیں گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت, ایچ ای سی اور یونیورسٹیاں طلبا کے تمام جائز مطالبات پر غور کر رہی ہیں اور آئندہ سمیسٹر میں ٹرانسپورٹ, ہاسٹل, لائبریری وغیرہ کی مد میں اضافی فیسیں وصول نہیں کی جائیں گی۔

احتجاج میں شریک آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں تو وہ آن لائن کلاسز کیسے لے سکتے ہیں۔

سابق قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طالب علم زوہیب مروت کہتے ہیں کہ انہیں اپنے علاقوں میں فون کال کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھنا پرتا ہے اور ایچ ایی سی کے چیئرمین کہتے ہیں کہ اگر آن لائن کلاسز نہیں لے سکتے تو سمیسٹر فریز کروا لیں۔

انہوں کا کہنا تھا کہ ریاست ایک طرف کہتی ہے کہ ہم محروم علاقوں اور طبقات کو برابر لانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف آن لائن کلاسز کی غیر حقیقی پالیسی نافذ کر کے انہیں تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

وائس چانسلرز کمیٹی کے سربراہ محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی کے مسائل ہیں، ان طلبا کو بھی تعلیم سے محروم نہیں رکھا جائے گا، البتہ امتحانات کے بغیر ڈگری جاری کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ تک رسائی نہ رکھنے والے طلبا کو درسی مواد بذریعہ ڈاک بجھوا دیا جائے گا اور ان کے اوپن بک امتحانات لئے جائیں گے۔

احتجاج کرنے والے طلبا کے اعلی تعلیم کے نگران ادارے ایچ ای سی کے حکام کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے تاہم یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

احتجاجی طلبا کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی مشکلات اور مطالبات سے وزیر تعلیم اور چیئرمین ایچ ای سی کو بار ہا آگاہ کیا ہے لیکن کہیں شنوائی نہ ہونے پر وہ احتجاج پر مجبور ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG