رسائی کے لنکس

نیب ریفرنس یکجا کرنے کی نواز شریف کی درخواست مسترد


سابق وزیراعظم نوازشریف 20 منٹ تک روسٹرم پر کھڑے رہے۔ نوازشریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست مسترد کردی ہے۔

بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کو پہلی مرتبہ کٹہرے میں بلا کر ان پر فردِ جرم عائد کی۔

احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی کیلیبری فونٹ کے استعمال سے متعلق الزام کے خلاف درخواست بھی منظور کر لی۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ہمراہ نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کا آغاز ہوا تو احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی ملزمان کی درخواست مسترد کردی۔

سماعت کے دوران نوازشریف اور جج کے درمیان دلچسب مکالمہ بھی ہوا۔ نواز شریف نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ مانیٹرنگ جج کی تعیناتی سے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں، چھ ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔

اس پر جج نے کہا چاروں ریفرنسز کی سماعت ایک ساتھ شروع کریں تو سماعت مکمل کرلیں گے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف 20 منٹ تک روسٹرم پر کھڑے رہے۔ نوازشریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔

نوازشریف کی جانب سے باقاعدہ درخواست ملنے کے بعد عدالت نے نواز شریف کو مستقل نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دے دی۔

ظافر خان نیب ریفرنسز میں نواز شریف کے مستقل نمائندے ہوں گے جو نواز شریف کی عدم حاضری پر عدالت میں پیش ہوں گے۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا چارج شیٹ کی کاپیاں آپ کو مل گئی ہیں جس پر نواز شریف نے ہاں میں سر ہلایا۔ جج نے بتایا کہ یہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی فردِ جرم ہے۔

نواز شریف نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے جواب میں کہا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور نیب ریفرنسز بدنیتی اور سیاسی انتقام کے لیے بنائے گئے ہیں۔

نوازشریف نے جج کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ چار ریفرنسوں پر چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر چار ریفرنس چھ ماہ میں نمٹائیں گے تو ہر ریفرنس کے لیے ڈیڑھ ماہ ملے گا، ہمیں فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

احتساب عدالت نے لندن فلیٹس ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی کیلیبری فونٹ کے استعمال سے متعلق الزام کے خلاف درخواست بھی منظور بھی کرلی۔

عدالت نے کیلبری فونٹ کے حوالے سے جعلی دستاویزات دینے کی دفعہ فردِ جرم حذف کر دی۔

اس موقع پر عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے مخالفت کی اور کہا کہ ٹرائل میں وہ جعلی دستاویزات کو ثابت کریں گے۔

عدالت نے اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان طلب کرتے ہوئے ریفرنسز کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG