رسائی کے لنکس

احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی درخواست منظور


اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے خلاف بنائے گئے نیب ریفرنسز کو یکجا کرکے ٹرائل کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف عدالتی کارروائیوں کے دوران انہیں پہلی بار ریلیف ملا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب ریفرنسز کو یکجا کرکے ٹرائل کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی درخواست منظور کر لی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے خلاف بنائے گئے نیب ریفرنسز کو یکجا کرکے ٹرائل کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل کی جانب سے عدالت عالیہ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ احتساب عدالت میں کل نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت ہے، اس حوالے سے فرد جرم کی نقول بھی فراہم کردی گئی ہیں۔

نیب قانون کے تحت، اثاثے جتنے بھی ہوں جرم ایک تصور ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر نیب کو 3 ریفرنسز کو ایک ریفرنس میں بدلنے کا حکم دیا جائے۔ ایک ہی الزام پر 3 ریفرنس دائر نہیں کیے جا سکتے۔ احتساب عدالت نے ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستوں کو وجہ بتائے بغیر ہی مسترد کر دیا۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف پر سپریم کورٹ کے حکم پر تین ریفرنسز دائر کیے گئے، جن کی نوعیت الگ الگ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواست پر احتساب عدالت کے 19 اکتوبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست دوبارہ متعلقہ عدالت کو بھجوا دی، عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر نظر ثانی کرے اور ان درخواستوں کو مسترد کئے جانے کی وجوہات کو تفصیل سے بیان کیا جائے۔

واضح رہے کہ نواز شریف نے نیب ریفرنسز کو یکجا کرکے سماعت کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، احتساب عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نے ایسی ہی ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی تھی جس پر اعتراضات لگا کر درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم، نواز شریف نے اس حوالے سے بھی نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG