رسائی کے لنکس

logo-print

اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ


نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار کی بیماری نہیں معلوم تو پھر وہ بیرونِ ملک کیوں گئے؟

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پیر کو اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اشتہاری قرار دینے کا وقت کم کرکے 10 روز کر دیا گیا ہے جب کہ ان کے موکل کے وارنٹ بھی لندن نہیں بھجوائے گئے۔ نیب نے اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹس کی تصدیق بھی نہیں کرائی۔

ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے مؤکل کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوئی ہے اور اس کی کاپی درخواست کے ساتھ منسلک کردی گئی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار اگلے ہفتے اپنا 'ایم آر آئی' کرائیں گے۔ عدالت چاہے تو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانہ اسحاق ڈار کا طبی معائنہ کرسکتا ہے اور عدالت اس بارے میں دفترِ خارجہ کو احکامات جاری کر سکتی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر اسحاق ڈار کی بیماری نہیں معلوم تو پھر وہ بیرونِ ملک کیوں گئے؟ نیب نے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے جب کہ اسحاق ڈار کے وکیل نے ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے عدالت سے ان کے مؤکل کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی موخر کرنے کی بھی استدعا کی۔

سابق وزیرِ خزانہ کے وکیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق ہر شہری کو صحت مند زندگی گزارنے کا حق ہے لہٰذا اسحاق ڈار کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے اور عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری ختم کیے جائیں۔

احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا کہ اگر اسحاق ڈار پاکستان میں ہوتے تو میڈیکل بورڈ بنایا جا سکتاتھا جس پر وکیل نے کہا کہ میڈیکل بورڈ اب بھی بن سکتا ہے۔

عدالت نے اسحاق ڈار کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

ریفرنس کی سماعت کرنے والی اسلام آباد کی احتساب عدالت 21 نومبر کو اسحاق ڈار کو مفرور قرار دے چکی ہے جبکہ ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG