رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: سکھ خواتین کے قبولِ اسلام اور مقامی مسلم نوجوانوں سے شادیوں پر تنازع


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بعض سکھ خواتین کی طرف سے اسلام قبول کر کے مقامی مسلم نوجوانوں سے شادیاں کرنے کے تازہ واقعات موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ سکھ تنظیموں نے ان واقعات پر اعتراض اٹھایا ہے۔

رواں ماہ سرینگر کے علاقے چھٹی پاٹ شاہی کی اٹھارہ سالہ سکھ لڑکی من میت کور نے مسلم نوجوان سے شادی کی تھی۔ اس شادی کے بارے میں بعض سکھ رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم نوجوان سکھ لڑکی سے عمر میں تین گنا بڑا ہے اور پہلے ہی دو شادیاں کر کے اپنی سابقہ بیویوں کو چھوڑ چکا ہے۔

تاہم، پولیس نے ایک مقامی عدالت میں سکھ لڑکی کا بیان قلم بند کروانے کے بعد اُسے والدین کے حوالے کر دیا ہے۔

اسی طرح ضلع پلوامہ کی 26 سالہ وران پال کور، جنہوں نے اب اپنا نام خدیجہ رکھ لیا ہے، تبدیلیٔ مذہب اور بھارت کے زیرِ انتطام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ منظور احمد بٹ کے ساتھ شادی کی ہے۔

عدالت سے نکاح کے تصدیق شدہ کاغذات کو منظرِ عام پر لاتے ہوئے خدیجہ کہتی ہیں کہ اُنہوں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور وہ اپنی شادی سے خوش اور مطمئن ہیں۔

دھنمیت کور نامی خاتون کے بارے میں سکھ تنظیموں کا دعویٰ تھا کہ انہیں مذہب بدل کر ایک مقامی مسلمان نوجوان کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

دھنمیت کی شادی سے متعلق ابھی سکھ تنظیموں کی جانب سے بات ہو رہی تھی کہ دھنمیت نے پیر کی شب سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اس الزام کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔

دھنمیت کے بقول، انہوں نے 2012 میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور پھر دو سال بعد 2014 میں اپنے کالج کے دوست مظفر احمد کے ساتھ شادی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے یہ نکاح پورے ہوش و حواس میں اور اپنی مرضی سے کیا تھا اور یہ کہنا بالکل غلط اور گمراہ کُن ہے کہ مجھ پر دباؤ ڈالا گیا۔

دھنمیت نے اپیل کی کہ ان کی شادی کو مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور نہ اسے سیاسی رنگ دیا جائے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران سکھ لڑکیوں کے قبولِ اسلام اور مسلم نوجوانوں سے شادیوں کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران سکھ لڑکیوں کے قبولِ اسلام اور مسلم نوجوانوں سے شادیوں کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب آل پارٹیز سکھ کوارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ کہتے ہیں کہ بین المذاہب شادیوں میں مقامی پولیس اور انتظامیہ کے مخصوص حصوں کی طرف داری اور تعصب برتنے کا عمل شامل ہے جس پر انہیں اعتراض ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین المذاہب شادیوں کے واقعات نے سکھ برادری میں مسلم آبادی کے بارے میں کافی شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کو جنم دیا ہے۔

بعض سکھ رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مفاد پرست عناصر کو بعض ہندو انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی حاصل ہے جو ان واقعات کے پس پردہ مذہبی منافرت پھیلا کر سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

سکھ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی سکھ خواتین کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، بین المذاہب شادیوں کے قانون کو نافذ کیا جائے اور ایسی شادیوں کے سلسلے میں عدالتی گواہیوں کا ایک فعال قانونی طریقہ کار تشکیل دیا جائے۔

جگموہن سنگھ رینہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مزید الزام عائد کیا کہ سکھ لڑکیوں کے مسلم نوجوانوں سے شادی کرنے کے حالیہ واقعات میں پولیس نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ شادی کرنے والی سکھ لڑکی کے والدین کو عدالت کے دروازے پر بٹھایا گیا اور پھر وہیں ان سے چند کاغذات پر دستخط کرائے گئے جس سے یہ سارا معاملہ اور اس میں پولیس کا کردار مشکوک بن گیا ہے۔

جگموہن سنگھ کہتے ہیں سکھ لڑکی کی عدالت میں زبردستی شادی کے واقعے پر سکھوں کی ایک بڑی تعداد نے عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

عدالت کے باہر ہونے والے اس مظاہرے اور سکھ لڑکی کے والدین کے بیان پر مبنی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتی پنجاب اور نئی دہلی سے کئی سکھ رہنما جن میں دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر سردار منجیندر سنگھ سِسرا اور شرومنی اکالی دل دہلی کے سربراہ سردار پرم جیت سنگھ اپنے ساتھیوں سمیت سری نگر پہنچے۔

سکھ رہنماؤں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے الگ الگ ملاقاتیں کر کے علاقے میں سکھ خواتین کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، بین المذاہب شادیوں کے قانون پر عمل درآمد کرانے اور ایسی شادیوں کے معاملات میں عدالتی گواہیوں کے حوالے سے ایک مضبوط قانونی طریقہ کار تشکیل دینے کے مطالبات پیش کیے۔

ان ملاقاتوں کے بعد لیفٹننٹ گورنر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے بین المذاہب شادیوں کے معاملات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بین المذاہب شادیوں کے حالیہ واقعات اور ان سے پیدا شدہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جگموہن سنگھ رینہ کہتے ہیں مسلم آبادی کے بارے میں سکھوں میں پیدا ہونے والی بد اعتمادی کو دور کرنے کے لیے کشمیر کی مسلم سیاسی اور مذہبی قیادت کو آگے آنا چاہیے۔

بھارتی کشمیر میں لڑکیوں کی بر وقت شادی نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:20 0:00

انہوں نے کہا کہ "جس بات نے سکھ برادری کو تکلیف پہنچائی ہے وہ اس طرح کی مشکوک بین المذاہب شادیوں اور تبدیلیٔ مذہب کے معاملات پر مسلم مذہبی اور سیاسی قیادت کی خاموشی ہے۔

جگموہن سنگھ کہتے ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں میر واعظ عمر فاروق سمیت متعدد مسلم رہنماؤں سے بات کی ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور کم از کم ایسے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کریں۔

جگموہن سنگھ رینہ نے الزام لگایا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ کچھ گروہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مسلم اور سکھ برادریوں کے درمیان بین المذاہب شادیوں کے معاملات پر پائے جانے والے اختلافات کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کشمیر میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش جموں و کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں نے ایک دوسرے کی اچھے اور برے وقت میں مدد کی ہے اور اس قدیم رشتے کو نقصان پہنچانے کی بے شمار کوششوں کا پامردی سے سامنا کیا ہے۔

عمر عبداللہ نے مزید کہا "مجھے اُمید ہے کہ حکام حالیہ تناؤ کے پس پردہ عوامل کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کریں گے اور اگر کسی نے قانون توڑا ہے تو اُس پر مقدمہ چلاتے ہوئے لازمی سزا دی جائے گی۔"

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکھ برادری کشمیری سماج کا ایک اٹوٹ انگ ہے۔ کسی کو اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں جبری تبدیلیٔ مذہب کا تصور ہے اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اگر کسی نے واقعی کچھ غلط کیا ہے اُسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔

کشمیری مذہبی رہنماؤں اور تنظیموں کے اتحاد متحدہ مجلس علما کے ایک وفد نے منگل کو شرمنی اکالی دل دہلی کے صدر پرم جیت سنگھ سرنا کے ساتھ ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا کہ تبدیلیٔ مذہب اور شادیوں کے حالیہ معاملات میں کوئی زبردستی نہیں ہوئی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG