رسائی کے لنکس

logo-print

ڈینئل پرل قتل کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک


فائل فوٹو

کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پولیس مقابلے میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث ایک ملزم شیخ شاہد کو مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ شیخ شاہد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ دھماکا خیز مواد اور خودکش جیکٹیس تیار کرنے کا بھی ماہر تھا۔

شیخ شاہد کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات ناردرن بائی پاس کے قریب خدا بخش گوٹھ میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

مقابلے میں ہلاک ہونے والوں میں شیخ شاہد کے علاوہ طلعت محمود عرف یوسف اور عثمان نور بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ تینوں ملزمان دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں مطلوب تھے۔

ایس ایس پی ضلع ملیر عرفان بہادر کے مطابق شیخ شاہد امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں بھی ملوث اور مطلوب تھا۔ شیخ شاہد اسی کیس میں 2002 سے 2006 تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں بھی رہا تھا تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ شیخ شاہد کالعدم لشکر جھنگوی کے اہم رہنما نعیم بخاری کا بھی قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل سے منسلک 39 سالہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کو کراچی میں اغواء کے بعد 2002 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں گرفتار احمد عمر شیخ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی جب کہ ملزم کے تین دیگر ساتھیوں فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم ملزمان کی اپیل قتل کے 17 سال کے بعد اب بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا دوسرا دہشت گرد طلعت محمود یوسف ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق القاعدہ سے تھا جو کراچی کے نیٹ ورک کو فعال کرنے میں مصروف تھا۔ پولیس ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کا القاعدہ کے اہم رکن اور سانحہ صفورہ میں ملوث ملزم عمر کاٹھیو سے قریبی تعلق تھا۔

پولیس کی جانب سے تیسرے دہشت گرد کا نام عثمان نور عالم بتایا گیا ہے جو القاعدہ برصغیر کا اہم رکن بتایا جاتا ہے۔ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق عثمان نور عالم نے 2013 میں کورنگی میں 4 پولیس اہل کاروں کو قتل کیا تھا۔

2013 ہی میں ساتھیوں کے ہمراہ ایک امام بارگاہ پر دستی حملے میں بھی عثمان نور عالم ملوث تھا۔ جب کہ وہ 2015 میں سندھ رینجرز کے اورنگی ٹاؤن میں چار اہل کاروں کو ہلاک کرنے اور 2016 میں تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس کے جوانوں کو قتل کرنے میں بھی ملوث بتایا گیا ہے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔

پولیس نے ملزموں کے قبضہ سے دو مشین گنز، 2 دستی بم، پستول، دو ریموٹ کنٹرول سرکٹ، دو ڈیٹونیٹرز، سیفٹی فیوز اور بارودی مواد بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا یہ کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG