رسائی کے لنکس

logo-print

شامی فوج کی بمباری سے 83 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ


آبزرویٹری کے مطابق شامی فوج کی جانب سے حلب کے شمالی علاقوں پر بیرل بموں کے حملے جمعے سے جاری ہیں جن میں اب تک 83 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی افواج نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب پر مزید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ دو روز میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے اتوار کو حلب شہر کے شمالی علاقے میں مزید 'بیرل بم' گرائے ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق شامی فوج کی جانب سے حلب کے شمالی علاقوں پر بیرل بموں کے حملے جمعے سے جاری ہیں جن میں اب تک 83 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والوں کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

'بیرل بم' تیل کے ڈرموں یا سیلنڈروں سے بنتے ہیں جن میں بارودی مواد یا مختلف دھاتوں کے ٹکڑے بھرے جاتے ہیں۔ شامی افواج کی جانب سے ان بموں کے مبینہ استعمال پر عالمی برادری نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے جب کہ کئی حلقے اس کاروائی کو ایک جنگی جرم قرار دے رہے ہیں۔

مغربی ممالک نے 'بیرل بموں' کے مبینہ استعمال کے خلاف گزشتہ سال دسمبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مذمتی قرارداد پیش کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن شامی حکومت کے اہم اتحادی روس کی مخالفت کے باعث ایسا نہیں ہوسکا تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران ان بیرل بموں کے نتیجے میں شام کے مختلف علاقوں میں 700 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

شامی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ حلب کے بڑے حصے پر قابض باغیوں کے خلاف کاروائی میں مصروف ہے، جس میں اس کے دعویٰ کے مطابق 'بیرل بم' استعمال نہیں کیے جارہے۔

حلب شام کا سب سے بڑا شہر اور ماضی میں اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے لیکن باغیوں کا مضبوط گڑھ ہونے کی وجہ سے اس شہر کو گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران بدترین لڑائی دیکھنا پڑی ہے۔ اس وقت بھی شہر کے بڑے حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے جن کےخلاف صدر بشار الاسد کی حامی فوج وقتاً فوقتاً کاروائی کرتی رہتی ہے۔

'سیرین آبزرویٹری' کے مطابق شامی فوجی دستے بمباری اور جھڑپوں سے بچ کر نکلنے والے حلب کے باشندوں کو شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور حکومتی فوج نے شہر سے باہر نکلنے والے جنوب مغربی راستے کو بند کردیا ہے جہاں اس وقت شہر چھوڑنے کے خواہش مند افراد کا ہجوم جمع ہے۔

آبزرویٹری نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج نے ہفتے اور اتوار کو دارالحکومت دمشق کے بعض نواحی علاقوں سمیت ملک کے کئی شہروں اور قصبوں پر بھی بیرل بم برسانے کے علاوہ شدید بمباری اور فضائی حملے کیے ہیں۔

شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کی ملک میں آزادانہ نقل و حرکت پر قدغنیں عائد کر رکھی ہیں جس کے باعث 'آبزرویٹری' کے ان دعووں کی تصدیق ممکن نہیں۔
XS
SM
MD
LG