رسائی کے لنکس

امن کوششوں کے باوجود، افغانستان میں تشدد میں اضافہ


کابل میں بم دھماکے کے بعد تباہی کا منظر

ایک تازہ تریں امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں رواں برس کی تیسری سہ ماہی میں روزانہ طالبان حملوں میں اوسطاً پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سیگار) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران 30 حملے ہوئے، جو کہ یکم اپریل سے لے کر 30 جون تک کی سہ ماہی کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہیں۔

اگر امریکہ اور طالبان مذاکرات کاروں کو یہ توقع تھی کہ مذاکرات کے پیش نظر طالبان پرتشدد کارروائیوں میں کمی کریں گے، تو یہ صورت حال ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ اس دفعہ دشمن کی جانب سے کیے جانے والےحملے معمول سے زیادہ ہیں۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والی سیگار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سہ ماہی میں حکومت مخالف فورسز کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 83 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 38 فیصد ہلاکتیں طالبان کے حملوں میں ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے سیگار کو بتایا کہ اگر طالبان کی جانب سے تشدد کی اتنی بلند شرح جاری رہی تو پھر اس سے امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان باغی گروپ اتنا ہی تشدد کر رہا ہے جو اس کے نزدیک امریکہ طالبان معاہدے کی حدود کو عبور نہیں کرتا، اور ساتھ ہی وہ افغان حکومت کو ہراساں کر رہا ہے تا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد، وہ اپنے لیے سازگار ماحول کے حالات پیدا سکے۔

گو کہ امریکہ، طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تنقید تو کر رہا ہے، لیکن یہ نہیں کہہ رہا کہ باغی گروپ کی کاروائیاں امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہیں، اور اس دوران افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس وقت افغانستان میں ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

افغان مصالحت کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے متحارب افغان فریقوں سے کہا تھا کہ وہ میدان جنگ میں متشدد کاروائیوں کو کم کریں۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مجھے مایوسی ہوئی ہے کہ تشدد میں کمی کے وعدوں کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی تصفیے کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔

اس ماہ کے آغاز میں امریکہ نے ان طالبان کے خلاف متعدد کاروائیاں کیں، جو صوبہ ہلمند میں افغان فورسز پر فائرنگ کر رہے تھے۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے کمانڈر، امریکی فوج کے جنرل اسٹن ایس ملر کہتے ہیں کہ طالبان کے حملے، امریکہ طالبان امن معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور بند ہونا چاہئیے۔

سیگار کی رپوورٹ کے مطابق، امریکی فوج یہ بتانے سے گریزاں ہے کہ جب سے امن مذاکرات کاآغاز ہوا، تب سے کیا طالبان نے امریکی فوجیوں پر حملے کئے ۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ معلومات خفیہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG