رسائی کے لنکس

logo-print

طورخم میں گیٹ کی تعمیر پر اتفاق کی خبر غلط ہے: افغان سفارتکار


طورخم میں اس تعمیراتی عمل کی وجہ سے دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا اور صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

پاکستان کے لیے افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر گیٹ کی تعمیر کے لیے انھوں نے پاکستانی فوج کے جنرل راحیل سربراہ سے ملاقات میں اتفاق کیا تھا۔

بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ "میں نے ابھی جیو نیوز (پاکستانی نجی ٹی وی چینل) کی ایک ٹوئٹ پڑھی جس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسلام آباد میں افغان سفیر (یعنی میں) نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے 13 مئی کو ہونے والی ملاقات میں طورخم میں گیٹ کی حالیہ تعمیر پر اتفاق کیا تھا۔ یہ سراسر غلط ہے۔"

پاکستان کی طرف سے افغان سفیر کے بیان پر براہ راست ردعمل تو سامنے نہیں آیا البتہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بدھ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ سرحد کی دونوں جانب دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے سرحد کی موثر نگرانی کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے کا مقصد دراندازی روکنے کی مشترکہ خواہش کی جانب پیش رفت ہے تاکہ اس طرح کے اقدام سے دونوں ملکوں کے شہریوں کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے۔

مشیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ طرفین مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں۔ اُنھوں نے اس اُمید کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان سلامتی کے اُمور خاص طور پر غیر محفوظ دو طرفہ سرحد کے ذریعے سرحد کے آر پار دہشت گردی سے نمٹنے میں تعاون کرے گا۔

پاکستان، افغانستان کے ساتھ سرحد کی موثر نگرانی پر زور دیتا آیا ہے اور حالیہ مہینوں میں اس نے اپنی جانب مختلف اقدام بھی کیے۔ گزشتہ ماہ ایسے ہی اقدام کی وجہ سے طورخم سرحدی گزرگاہ تقریباً چار روز تک بند رہی تھی جو سفیر زخیلوال کی جنرل راحیل سے ملاقات کے بعد کھولی گئی۔

افغان سفیر عمر زخیلوال کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل سے ہونے والی ملاقات میں گزشتہ سال 13 دسمبر کو دونوں ملکوں کے عسکری اور دفاعی عہدیداروں کے ہونے والے اجلاس سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

ان کے بقول اس اجلاس میں افغان عہدیداروں نے پاکستان کی طرف سے سرحد پر اپنی جانب باڑ لگانے کے منصوبے پر کسی طرح کا اعتراض نہیں کیا اور پاکستانی عہدیداروں نے افغانستان کی حدود میں موجود انگور اڈہ کی چیک پوسٹ اور دیگر تعمیرات خالی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

افغان سفیر کے مطابق گیٹس کی تعمیر کا معاملہ صرف دو روز قبل اُس وقت زیر بحث آیا جب افغان وزارت دفاع کی سربراہی میں ایک وفد نے طورخم میں عہدیداروں سے ملاقات کی "اور ہم اس (تعمیرات) پر راضی نہیں تھے، لیکن پاکستانی فوج نے تعمیر جاری رکھی جو کہ تصادم اور پھر لڑائی کا سبب بنی۔"

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان فورسز کی طرف سے طورخم کے علاقے میں ’بلا اشتعال‘ فائرنگ پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے اپنی ملکی حدود کے اندر سرحدی نگرانی کو بہتر بنانے کی کوششوں میں خلل ڈالنا قابل افسوس ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ لوگوں اور گاڑیوں کی سرحد کے آر پار آمد و رفت کو منظم اور موثر بنانا انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اُن کے بقول اس طرح کے انتظام سے منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی روکا جا سکے گا۔

پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ وہ طورخم سے بغیر مستند سفری دستاویزات کے کسی بھی افغان شہری کو اپنے ہاں داخل نہیں ہونے دے گا جب کہ پاکستانی فوج کے مطابق گیٹ کی تعمیر کا مقصد سرحدی گزرگاہ پر آمدورفت کو نظم و ضبط میں لاتے ہوئے سہل بنانا ہے۔

طورخم میں اس تعمیراتی عمل کی وجہ سے گزشتہ اتوار کی شب سے دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں افغان فوج کا ایک اہلکار اور پاکستانی فوج کا ایک افسر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ دونوں جانب ایک درجن سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

دونوں ملکوں نے اپنے اضافی دستے بھی طورخم میں پہنچا دیئے ہیں اور صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

حالیہ تناؤ کے سبب طورخم سرحد پر آمد و رفت بند ہے اور دونوں جانب کھڑی گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG