رسائی کے لنکس

دو طرفہ تعلقات کے لیے 'محتاط انداز میں پر امید' ہیں: افغان سفیر


سفیر عمر زخیلوال (فائل فوٹو)

ڈاکٹر زخیلوال کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سنجیدہ اور مخلص ہیں اور ان کے بقول صدر غنی بھی پاکستان کے ساتھ دوستی کے دروازے کھولنے سے متعلق سنجیدہ ہیں۔

پاکستان کے لیے افغانستان کے سفیر اور صدر اشرف غنی کے نمائندہ خصوصی ڈاکٹر عمر زخیلوال نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو تعلقات میں فروغ کے لیے "محتاط انداز میں پرامید" رہنا چاہیے۔

یہ بات انھوں نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل "جیو نیوز" کے ایک پروگرام میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی گزشتہ ہفتے افغان صدر سے ملاقات کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ پروگرام اتوار کی شب نشر ہوا تھا۔

ڈاکٹر زخیلوال کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سنجیدہ اور مخلص ہیں اور ان کے بقول صدر غنی بھی پاکستان کے ساتھ دوستی کے دروازے کھولنے سے متعلق سنجیدہ ہیں۔

"ہم بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اگر ہم ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور کسی تیسرے فریق خصوصاً بھارت کو ہمارے تعلقات وضع نہ کرنے دیں۔"

پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بھارت، افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف "درپردہ جنگ" کے لیے استعمال کر رہا ہے لیکن کابل اور نئی دہلی دونوں ہی اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

یکم اکتوبر کو جنرل باجوہ کی کابل میں افغان صدر غنی سے ملاقات ہوئی تھی
یکم اکتوبر کو جنرل باجوہ کی کابل میں افغان صدر غنی سے ملاقات ہوئی تھی

دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک عرصے سے تناؤ چلا آرہا تھا لیکن یکم اکتوبر کو جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ کابل میں اعلیٰ افغان عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد کشیدگی میں ممکنہ کمی کے اشارے ملے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ افغان صدر نے پاکستانی فوج کے سربراہ کی طرف سے پاکستان آنے کی دعوت کو قبول کر لیا ہے لیکن اس کی حتمی تاریخ کے بارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

افغان سفیر نے آرمی چیف اور افغان صدر کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی جو کہ پاکستان اور افغآنستان کے مابین اختلافات کو ختم کرنے کی "دلچسپی کا مظہر" تھی۔

دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان پائے جانے والے عدم اعتماد کے بارے میں ڈاکٹر زخیلوال نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ موجود ہے۔ تاہم ان کے بقول "ہم اسے کچھ نہ کرنے کے لیے خود کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"

"کوئی بات نہیں کہ ہم کتنی بار ناکام ہوئے، ہمیں ضرور دوبارہ کوشش کرنی ہوگی، ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔"

پاکستان بھی یہ کہتا آیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے اور جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن و استحکام کے لیے کی جانی والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG