رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں کے باوجود اسلام آباد اور کابل میں نتاؤ میں کمی نہیں آئی۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک طریقہٴ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کر چکے ہیں

اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر عمر زخیلوال نے بدھ کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر فوج کے شعبہٴ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر عمر زخیلوال نے بدھ کو راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، بشمول خطے کی سکیورٹی اور دونوں ملکوں کی دوطرفہ سرحد پر ’بارڈر مینجمنٹ‘ کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔

افغان سفیر عمر زخیلوال نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا کہ جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقات میں باہمی تناؤ کا سبب بننے والے معاملات اور ان کو حل کرنے کے طریقہ سے متعلق بات چیت کی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہونے والے جانی ںقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں کے باوجود اسلام آباد اور کابل میں نتاؤ میں کمی نہیں آئی۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک طریقہٴ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کر چکے ہیں۔

افغانستان اپنے ہاں ہونے والے عسکریت پسندوں حملے کا الزام ان عناصر پر عائد کرتا ہے جن کے ٹھکانے مبینہ طور پاکستان میں مقیم ہیں۔

اسلام آباد اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور اس مؤقف ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں وہ عناصر ملوث ہیں جن کے ٹھکانے مبینہ طور پر افغانستان میں ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کو بہتر کر، ان عناصر کی نقل و حرکت کو روکنے میں مدد ملے گی جو سرحد کےدنوں طرف امن و امن کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ جس ضمن میں پاکستان نے کئی اقدامات کیے ہیں۔

اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ مہینوں میں تناؤ کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے باہمی رابطوں کو مؤثر اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG