رسائی کے لنکس

logo-print

'افغان اسٹار آئڈل' پہلی مرتبہ ایک خاتون کے نام


افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد اس کے عوامی زندگی پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔

مردوں کو داڑھی رکھنا لازمی قرار دیا گیا تو خواتین کو گھروں تک محدود کردیا گیا۔ کھیل کود، تعلیم سب پر پابندیاں لگادی گئیں۔

موسیقی اور رقص کے بارے میں تو سوچنا بھی محال تھا۔مگر اب رفتہ رفتہ افغان خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہی نہیں۔ خواہ وہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو۔ 20 سالہ زہرا الہام کی ہی مثال لے لیجئے ۔

زہرا الہام نے گزشتہ ہفتے ایک نئی مثال قائم کی جو ملکی تاریخ میں ایک اہم باب ثابت ہوئی۔

انہوں نے بطور خاتون پہلی مرتبہ ملک کا سب سے مشہور میوزک ریئلٹی شو' 'افغان اسٹار آئڈل' کا مقابلہ جیت لیا۔ وہ یہ مقابلہ جیتنے والی پہلی افغان خاتون ہیں ورنہ شو کے اب تک ہونے والے تیرہ سیزنز مردوں نے اپنے نام کئے تھے۔

'افغان اسٹار آئڈل' سنہ 200میں شروع کیا گیا تھا اور آج اسے سب سے زیادہ کامیاب ٹی وی شو ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔

زہرا الہام افغانستان کی ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک مرد افغان اسٹار تھے جنہیں زہرا الہام نے شکست دے دی ۔

یہ پروگرام' امریکن آئڈل' کا مقامی ورژن ہے۔ اس مقابلے کے چودہ سیزنز مکمل ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں مرد اور خواتین حصہ لے چکی ہیں لیکن اب تک کسی بھی خاتون یہ فنالے نہیں جیتا تھا۔ یہ اعزاز زہرا کو ملا۔

پروگرام کے فنالے میں زہرہ الہام سمیت 2خواتین فائنل ہوئی تھیں اور ان کے مقابلے میں فائنل ہونے والے لڑکوں کی تعداد چار سے زائد تھی جبکہ آخری تین مقابلوں میں صرف زہرہ الہام ہی واحد خاتون تھیں ۔

خوش قسمتی اور اپنی خوب صورت آواز کی بدولت فائنل میں انہوں نے تمام مرد گلوکارہ کو پیچھے چھوڑ دیا اور آخر کار خاتون کی حیثیت سے پہلی بار ایوارڈ جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔

فنالے جیتنے کے اعلان کے ساتھ ہی زہرا کو ٹرافی دی گئی ۔زہرا کو ترافی دیتے ہوئے پروگرام کے اینکر مصطفی عزیزی نے کہا کہ قیام امن قریب ہے ، امید ہے کہ مستقبل کے پر امن ماحول میں افغانستان کے مزید ستارے اس پروگرام کی شان و شوکت بڑھائیں گے۔

ٹرافی وصول کرتے ہوئے زہرا کی آنکھیں چھلک آئیں ۔ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے انہوں نے ناظرین سے کہا ' آج عوام کے دل میرے لئے دھڑکتے ہیں ، یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے ، اپنے احساسات کے اظہار کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ آج میں افغانستان کی ہر خاتون کی نمائندگی کرتی ہوں ۔ میری جیت افغانستان کی ہر لڑکی کی فتح ہے ۔ '

ساتھ ہی انہوں نے اس ایوارڈ کا کریڈٹ اپنے والدین اور گھر والوں کو دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین اور اہل خانہ نے ان کی بھرپور انداز میں حوصلہ افزائی کی، اسی حوصلہ افزائی کی بدولت میں یہ اعزاز اپنے نام کرسکی۔

انہوں نے افغانستان کی لڑکیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ پروگرام سے مردوں کی اجارہ داری ختم کرنے کی خواہشمند تھیں ، ان کی خواہش پوری ہوئی۔ اب وہ یہ چاہتی ہیں کہ افغانستان کی تمام لڑکیاں اپنے اپنے شعبوں میں آگے آئیں اور ایک نئی تاریخ رقم کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG