رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت نے الیکشن کمیشن برطرف کر دیا


افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

افغانستان کی حکومت نے ملک کے الیکشن کمیشن کے ارکان کو برطرف کر دیا ہے۔

برطرفی کا یہ اقدام افغانستان میں تین ماہ قبل ہونے والے "غیر منظم" پارلیمانی انتخابات کے بعد اور رواں سال جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے پہلے کیا گیا ہے۔

رواں سال جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں میں افغان صدر اشرف غنی بھی شامل ہیں۔

صدارتی انتخاب اپریل میں منعقد ہونا تھا لیکن گزشتہ سال اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات میں بدنظمی سے متعلق بڑی تعداد میں شکایات کے بعد انہیں تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ آزاد الیکشن کمیشن اور اس کے شکایات سیل کے ارکان کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

لیکن بیان میں اس اقدام کی کوئی وضاحت یا وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

البتہ صدر غنی نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک ہفتے کے اندر نئے الیکشن کمیشن کے لیے ارکان نامزد کرنے کا کہا ہے۔

گزشتہ سال اپنے مقررہ وقت سے تین ماہ بعد ہونے والے افغانستان کے پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بدنظمی دیکھنے میں آئی تھی۔

انتخابی عمل کے دوران سینکڑوں پولنگ اسٹیشنز اپنے مقررہ وقت کے کئی گھنٹوں بعد کھلے تھے جب کہ کئی ایک تو سرے سے ہی نہیں کھل سکے تھے اور ان میں پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

پولنگ اسٹیشنوں کا وہ عملہ جنہیں بائیومیٹرک شناخت کے نظام کی تربیت دی گئی تھی، وہ انتخابی عمل سے غیر حاضر رہا تھا۔

صدر غنی اعلان کر چکے ہیں کہ صدارتی انتخابات رواں سال جولائی میں ہی ہوں گے۔ لیکن افغانستان میں گزشتہ 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان جو بات چیت جاری ہے اس میں تمام افغان فریقوں کی رضامندی سے ایک عبوری حکومت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جولائی کے انتخابات افغانستان کے دیرینہ تنازع کے حل کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

صدر غنی کے سیاسی مخالفین بشمول ان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے والے کئی امیدوار بھی صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز کے حق میں ہیں۔

لیکن صدر غنی انتخابات اپنے وقت پر کرانے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کی حکومت افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ طالبان کے رابطوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہے۔

افغان صدر کے خصوصی نمائندے عمر داؤد زئی نے بھی کہا ہے کہ صدر غنی جولائی کے انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

صدر اشرف غنی 2014ء کے صدارتی انتخابات کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔

وہ انتخابات بھی بدنظمی اور دھاندلی کے الزمات کی وجہ سے متنازع ہو گئے تھے اور انتقالِ اقتدار کا عمل کئی ماہ تاخیر کا شکار رہا تھا۔

بعد ازاں امریکہ کی ثالثی سے افغانستان میں ایک قومی حکومت قائم ہوئی تھی جس میں اشرف غنی صدر اور انتخابات میں ان کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بنے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG