رسائی کے لنکس

پاکستان میں پھنسے افغان شہریوں کا مظاہرہ

  • شمیم شاہد

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ چند روز سے مقامی مساجد میں رہنے پر مجبور تھے، لیکن گزشتہ روز انھیں وہاں سے بھی حکام نے مبینہ طور پر بے دخل کر دیا تھا۔

پاکستان کے شمال مغرب میں افغان سرحد کے قریب واقع علاقے لنڈی کوتل میں ان افغان شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جو سرحد کی بندش کے باعث اپنے وطن واپس نہیں جا سکے ہیں۔

مظاہرے میں شریک تقریباً 300 افغان شہری شریک تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجود وسائل ختم ہو چکے ہیں اور وہ چند روز سے مقامی مساجد میں رہنے پر مجبور تھے، لیکن گزشتہ روز انھیں وہاں سے بھی حکام نے مبینہ طور پر بے دخل کر دیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان افراد نے گزشتہ رات کھلے آسمان تلے اور بعض نے زیر تعمیر مسجد میں گزاری

فی الحال اس بارے میں پاکستانی حکام کی طرف سے سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

​ان افغان شہریوں کے پاس پاکستان کا ویزہ اور بعض کے پاس پاکستان میں قیام کا عارضی اجازت نامہ تھا اور ان میں اکثر ایسے افراد ہیں جو علاج کی غرض سے اور بعض یہاں اپنے کام کاج کے لیے یہاں آئے تھے۔ لیکن رواں ماہ کے وسط میں پاکستان کی طرف سے طورخم پر افغان سرحدی گزرگاہ بند کیے جانے کی وجہ سے یہیں پھنس کر رہ گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق رواں ہفتے ہی لنڈی کوتل میں موجود تقریباً ڈھائی سو افغان شہریوں کو ان کے وطن کے واپس بھیج دیا گیا تھا لیکن اب بھی اتنی ہی تعداد میں افغان باشندے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

مظاہرین میں شامل حکم خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنی پریشانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور دیگر لوگ صرف اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔

دو روز قبل ہی اسلام آباد میں افغان سفیر عمر زخیلوال نے کہا تھا کہ سرحدی راستوں کو کھولنے کے لیے ان کی پاکستانی عہدیداروں سے بات ہوئی ہے اور جلد ہی سرحد کھول دی جائے گی۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ سرحد کی بندش سکیورٹی کے تناظر میں کیا گیا عارضی اقدام تھا اور انھیں امید ہے کہ سرحدی راستے جلد کھول دیے جائیں گے۔

رواں ہفتے ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے پشاور میں پاسپورٹ کے دفتر کو ہدایت کی تھی کہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستان میں پھنسے افغان شہریوں کے ویزوں میں توسیع کرے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان مختلف اختلافات کی وجہ سے بند ہوتی رہی ہیں جس سے نہ صرف تجارتی اور کاروباری شعبے کو بری طرح نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سرحد کے آر پار سفر کرنے والے ہزاروں افراد بھی اس سے شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔

XS
SM
MD
LG