رسائی کے لنکس

logo-print

تجارتی مارکیٹ تنازع: پشاور میں افغان قونصل خانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند


افغان مارکیٹ پر جاری تنازع 1989 میں شروع ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی مصروف ترین تجارتی علاقے میں واقع افغان مارکیٹ پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد افغان سفارت کاروں نے پشاور میں اپنے قونصل خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل ہاشم خان نیازی نے جمعے کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں افغانستان کے سفیر شکر اللہ لطیف مشعل نے مارکیٹ پر افغان پرچم لگواتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسے دوبارہ ہٹایا گیا تو پشاور کے قونصل خانے کو بند کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ افغانستان کا دعویٰ ہے کہ پشاور کی افغان مارکیٹ قیام پاکستان سے قبل افغان حکومت کی ملکیت تھی جب کہ پاکستان کی پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اسے ایک شخص کے دعوے پر اس کی ملکیت قرار دے چکی ہیں۔

ادھر، ایک بیان میں افغان سفارت خانے نے کہا ہے کہ ’’مارکیٹ پر چھاپہ مارنے اور افغانستان کا پرچم دوسری بار ہٹائے جانے سے قبل پولیس نے پاکستان میں افغانستان کے سفارتی مشن کو آگاہ نہیں کیا‘‘۔ تاہم، بیان میں یہ نہیں بتایا گیا آیا افغان قونصل خانہ کب تک بند رہے گا۔

آٹھ اور نو اکتوبر کی درمیانی شب پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کے تحت پولیس نفری کی مدد سے افغان تجارتی مرکز کا قبضہ واگزار کرایا تھا اور کارروائی کے دوران عمارت پر لگے ہوئے افغانستان کے جھنڈے کو بھی اتار کر پاکستان کا قومی جھنڈا لگوا دیا تھا۔

بعد ازاں بدھ کو پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر شکر اللہ عاطف مشعل نے سفارتی عہدے داروں اور پشاور میں افغان قونصل جنرل محمد ہاشم نیازی کے ہمراہ آ کر افغان تجارتی مرکز کا قبضہ واپس لیا اور اس عمارت پر افغانستان کا پرچم بھی دوبارہ لہرایا تھا۔

پشاور کی افغان مارکیٹ میں افغان پرچم نصب کیا جا رہا ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:35 0:00

اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسے دوبارہ ہٹایا گیا تو پشاور کے قونصل خانے کو بند کر دیا جائے گا۔ لہذٰا، افغان قونصل جنرل کے بقول، یہ قدم اسی فیصلے کے تحت اُٹھایا گیا ہے۔

ہاشم خان نیازی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی عام جائیداد نہیں ہے بلکہ افغان حکومت کی ملکیت ہے۔ لہذٰا، اس کا فیصلہ عدالت کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان ہونا چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے افغان حکومت پاکستان کے ساتھ اس تنازع کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

پشاور کا قونصل خانہ پہلی بار بند ہوا

دونوں ہمسایہ ممالک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب پشاور کے تاریخی قونصل خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ماضی قریب میں دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ حتیٰ کہ افغانستان میں سابق سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے دوران بھی پشاور یا اسلام آباد میں کسی بھی افغان سفارتی مشن کو بند نہیں کیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے صنعت و حرفت کے ادارے کے سابق صدر زاہد اللہ شنواری نے افغان قونصل خانے کی بندش کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی لوگوں بالخصوص تاجروں اور ٹرانسپوٹروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

تنازع کب شروع ہوا؟

پشاور میں جناح پارک کے بالمقابل 21 کنال سے زیادہ اراضی پر تعمیر شدہ اس تجارتی مرکز پر تنازع 1989 میں سامنے آیا تھا جب بھارت اور کشمیر سے 1947 میں بے دخل ہونے والے لوگوں کو آباد کرنے کے لیے 1958 میں بنائے گئے ایک قانون کے تحت یہ جائیداد ایک مقامی شخص کو الاٹ کی گئی تھی۔

اس قسم کی جائیدادوں کو الاٹ کرنے سے قبل سابق قانونی مالکان، دعوے داروں اور ملکیت رکھنے والے افراد کو باقاعدہ طور نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

افغان سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اُس وقت ان کی حکومت یا سفارت خانے کو کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔

اسی الاٹمنٹ کے تحت بعد میں عدالت نے بھی افغان حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مقامی شخص کے حق میں فیصلہ سنایا تھا اور اس فیصلے کے مطابق اب سول انتظامیہ نے پولیس فورس کی مدد سے تجارتی مارکیٹ کا قبضہ واگزار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور میں افغان حکومت کی ملکیت جائیدادوں میں قصّہ خوانی بازار کی افغان بلڈنگ، مال روڈ پر سفارت خانہ، شعبہ بازار میں درجنوں دکانوں کے علاوہ دیگر قیمتی جائیدادیں شامل ہیں۔

شہر کے نواحی علاقے ہزار خوانی کی حدود میں واقع رحمٰن بابا قبرستان میں افغانستان کے سابق حکمرانوں اور عہدے داروں کے خاندانی مقبرے بھی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG