رسائی کے لنکس

امریکہ پہنچنے والے افغان پناہ گزینوں کو امیگریشن کے پیچیدہ مراحل کا سامنا


فائل فوٹو

کابل سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے تاریخی انخلا کے سبب ہزاروں افغان پناہ گزیں امریکہ پہنچے ہیں۔ یہ پناہ گزیں مختلف نوعیت کے امیگریشن طریقہ کار سے گزریں گے اور ان میں سے بعض کو دوسروں سے بہتر سہولتیں میسر ہوں گی۔

ایس آئی ویز یا اسپیشل امیگرنٹ ویزا پر آنے والے مہاجرین کو تمام پناہ گزینوں پر فوقیت حاصل ہوگی اور یہ بہترین مراعات کے حقدار ہونگے۔

ایس آئی ویز افراد اور ان کے اہلخانہ اس کیٹیگری میں آتے ہیں جنہوں نے گزشتہ 20 سال کے دوران افغان جنگ میں امریکی حکومت یا ملٹری کے لئے مترجم یا مددگار کی حیثیت میں کام کیا ہو۔ ان خاندانوں کو مکان، خوراک، کپڑوں اور ہیلتھ کئیر سہولیات سے لے کر ملازمت کے حصول میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

وآئس آف امریکہ کی امیگریشن رپورٹر ایلین باروس کے مطابق دوسرے مہاجرین جو ایس آئی وی کی کیٹیگری میں نہیں آتے مگر کسی نہ کسی طرح امریکی ملٹری کے کارگو جہاز میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے 'پیرول' پر آنے والے افراد کا درجہ رکھتے ہیں۔

ایسے افراد مختصر دورانیے کے لئے ہاؤسنگ کی سہولت کے حقدار ہونگے۔ ان کے وظیفوں کی مالیت کم اور دیگر سہولیات کی معیاد بھی مختصر ہوگی۔ ایسے پناہ گزینوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین کے کیسز مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوجائیں گے، کیونکہ نہ انہیں ملازمتوں کے ضمانت حاصل ہے اور نہ ہی گرین کارڈ کی۔

افغان مہاجرین کی آبادکاری میں مصروف کئی امریکی این جی اوز کے ترجمانوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ افراد پہلے ہی صدمے سے دو چار یہاں پہنچے ہیں، انہیں مزید مشکلات سے نکالنے کے لئے امریکی کانگریس کو متحرک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی امیگریشن نظام خاصہ پیچیدہ اور دقیق ہے۔

انٹرنیشنل ریفیوجی اسسٹنس پروگرام کے پالیسی کونسل آیڈم بیٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ ''اس بات سے قطع نظر کہ یہ افراد یہاں کیسے پہنچے ہیں، ان کے لئے مستقل قانونی رہائش (گرین کارڈ) کا راستہ ہموار ہونا چاہیئے، ملک کے موجودہ امیگریشن نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کو کانگریس کے ساتھ مل کر طریقہ کار وضع کرنا چاہئیے''.

امیگریشن کے مختلف درجے

امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی اور پینٹاگون کے حکام کے مطابق افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد 65000 افغان مہاجرین کا انخلا ممکن بنایا گیا۔ ان میں سے 24000 افغان 17 اگست سے اب تک امریکہ لائے گئے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کو لانے والے جہاز امریکی دارلحکومت سے کچھ دور واقع ڈلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر آترتے رہے جہاں سے ان افراد کو امیگریشن کے لئے ٹیکساس، نیو جرسی، وسکونسن اور ورجینیا کے ملٹری بیسز پر بھیجا گیا تھا۔

امریکہ پہنچنے والے بعض افغان شہری پہلے ہی یہاں ایس آئی وی اسٹیٹس ہر پہنچے تھے جبکہ بہت سے یہاں پہنچنے کے بعد یہ حیثیت حاصل کرنے کے لئے چودہ نکاتی طویل درخواست کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اس پورے عمل پر جس میں فیصلہ کیا جانا اور فیصلے کی تصدیق بھی شامل ہے، لگ بھگ تین سال لگ سکتے ہیں۔ یہ عمل شروع ہونے سے پہلے درخواست گزار کو ویزا دیا جانا بھی ضروری ہے۔

وکلا کے مطابق، وہ تمام افراد جو یہ مرحلہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے ہی طے کر چکے تھے اس وقت مستقل قانونی رہائش حاصل کرنے کی راہ میں ہیں۔

مگر ویزہ اور ضروری دستاویزات کے بغیر امریکہ پہنچنے والے افراد کا مستقبل غیریقینی ہے۔ ان تمام افراد کو فی الحال 'انسانی ہمدردی پیرول' کے دائرہ کار کی تحت قبول کیا گیا ہے جو عام طور پر ہنگامی صورتِ حال میں استعمال کیا جاتا ہے۔

'پیرول' اسٹیٹس کے تحت امریکہ میں قیام کا دورانیہ بارہ ماہ ہوتا ہے جس میں امیگریشن حکام مزید بارہ ماہ کی توسیع کر سکتے ہیں۔

پناہ گزینوں کے ایک وکیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پیرول پر داخل کئے گئے خاندانوں کے امریکی فوجی اڈوں پر طبی معائنے کئے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں امریکہ میں ملازمت کرنے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں مدد بھی فراہم کی جارہی ہے۔

ملک بدری سے تحفظ

'انسانی ہمدردی پیرول' پر امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو ملک بدری سے تحفظ حاصل ہوگا اور یہ ملازمت کرنے کے اجازت نامے حاصل کرنے کے بھی حقدار ہونگے مگر یہ افراد مستقل رہائش اور اس کے بعد شہریت حاصل کرنے کے راستے پر نہیں ہونگے، نا ہی انہیں سماجی سہولتیں حاصل ہو پائیں گی۔

دوسری جانب ایس آئی وی اسٹیٹس پر آنے والے افراد کو 'امریکی پناه گزین داخلہ پروگرام' کے تحت مراعات حاصل ہونگی۔ یہ مراعات کسی بھی پناه گزین کے ملک میں داخلے کے آٹھ ماہ بعد تک دی جاتی ہیں۔

خصوصی امیگرنٹ ویزا پر آئے افراد پہلے مستقل سکونت اور پھر شہریت حاصل کرنے کے اہل ہونگے۔ یہ عمل مکمل ہونے میں پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG