رسائی کے لنکس

افغانستان سے فلاحی تنظیم کے 200 جانور برطانیہ پہنچ گئے


برطانوی فلاحی تنظیم نوزاد کے بانی، پین فارتھنگ ایک لاوراث کتے کے ساتھ۔ فائل فوٹو

افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے بعد جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک برطانوی امدادی تنظیم کے ویٹرنری عملے کے درجنوں افراد اور سینکڑوں جانوروں کو بچانے کی مہم نے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

کابل میں 'نوزاد' کے نام سے لاوارث کتوں کی پناہ گاہ کے بانی پین فارتھنگ ہیں۔ وہ 22 سال تک برطانوی شاہی فوج میں رہے اور 2006 میں انہوں نے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان سے لڑائیوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے 2007 میں 'نوزاد' کے نام سے لاوراث کتوں کے لیے ایک فلاحی تنظیم قائم کی، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ توسیع ہوتی رہی۔ اس کے عملے میں 25 افراد شامل ہیں، جن میں افغانستان میں جانوروں کے علاج معالجے کی پہلی خاتون ویٹرنر بھی ہیں۔

15 اگست کو دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کا ذکر کرتے ہوئے فارتھنگ نے کہا، "میرے پاس تین نوجوان خواتین جانوروں کے علاج معالجے کا کام کرتی ہیں۔ وہ بہت خوفزدہ ہیں، کیونکہ ہم ایک غیر ملکی تنظیم ہیں۔ ہم نے ماضی میں سپاہیوں کو بچانے میں مدد کی ہے۔ ہمارے پاس کام کرنے والی نوجوان خواتین سہمی ہوئی ہیں۔ مجھے ان کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔

فارتھنگ نے کہا کہ میں نے اپنے عملے اور جانوروں کے بغیر انخلا سے انکار کر دیا تھا، جس پر برطانیہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے فارتھنگ سے کہا تھا کہ ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے انہیں خود انخلا کی پرواز میں سوار ہونا چاہیے۔ ان کے عملے اور جانوروں کو بعد میں بچایا جا سکتا ہے۔ "

تاہم اس بارے میں فارتھنگ کی برطانوی وزیر دفاع کے دفتر سے ٹوئٹس کے ذریعے بات ہوتی رہی۔ لیکن بات نہ بن سکی۔

انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کابل ایئرپورٹ سنسان پڑا ہے۔ 31 اگست 2021
انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کابل ایئرپورٹ سنسان پڑا ہے۔ 31 اگست 2021

بعد ازاں 'نوزاد' تنظیم نے امریکہ میں مقیم عطیہ دہندگان کے فنڈز سے اپنا ایک ہوائی جہاز چارٹر کیا۔ کئی دنوں کے بعد، بالآخر برطانوی حکومت نے نوزاد کے عملے اور ان کے خاندان کے 68 افرار اور ان کی پناہ گاہ میں رکھے گئے کتوں کے ساتھ طیارے کو برطانیہ میں اترنے کی اجازت دے دی۔

لیکن طالبان نے انہیں ایئرپورٹ کے گیٹ سے اندر جانے سے روک دیا، کیونکہ ان کے پاسپورٹ پر برطانوی ویزے کی مہر نہیں تھی۔

وائلڈ لائف مہم کے ایک عہدے دار ڈومینک ڈائر نے، جو برطانیہ سے ان کی مدد کر رہے ہیں، برطانوی حکومت کو اس پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ان کے پاس برطانوی وزیر اعظم کے ایک دفتر کا خط تھا جس میں 68 لوگوں کے انخلا کی ضمانت دی گئی تھی۔ لیکن طالبان کا کہنا تھا کہ ہم خط وغیرہ نہیں جانتے۔ اگر ویزہ نہیں ہے تو ایئرپورٹ میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

وائلڈ لائف مہم کے ڈائرکٹر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مسئلہ برطانیہ کی وزارت دفاع کی جانب سے تاخیر سے اجازت دینے کی وجہ سے پیدا ہوا۔

وزارت دفاع نے وی او اے کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

فارتھنگ نے ٹوئٹر کے ذریعے طالبان رہنماؤں سے براہ راست اپیل کی کہ وہ ان کے گروپ کو ائیر پورٹ میں داخل ہونے دیں۔ ہفتے کے روز، فارتھنگ اور ان کی پناہ گاہ کے جانوروں کو ہوائی اڈے میں جانے کی اجازت دی گئی- لیکن ان کے عملے کو اجازت نہیں ملی۔ امریکی فوجیوں نے چارٹرڈ طیارے پر جانوروں کو لادنے میں مدد کی۔

فارتھنگ نے کہا کہ اس نے برطانوی حکومت سے اپیل کی کہ طیارے کی خالی نشستیں ان افغان شہریوں کو دے دی جائیں جو انخلا کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔ چنانچہ وہ اور جانور اتوار کی صبح برطانیہ پہنچ گئے۔

فارتھنگ اپنی بیوی کے ساتھ دوبارہ مل گئے ہیں، جسے افغانستان سے نکال کر اپنے آبائی ملک ناروے میں لایا گیا تھا۔

افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد 'نوزاد' کے عملے کے ارکان اور ان کے خاندانوں کی قسمت غیر یقینی ہے۔ کابل سے لائے گئے 140 کتوں اور 60 بلیوں کو اب برطانیہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ نوزاد کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کے لیے اسے بہت سی پیشکشیں موصول ہوئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG