رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: الجزیرہ کے دورپورٹر گرفتار، طالبان سے تعلق کا الزام


افغانستان میں الجزیرہ کے لیے کام کرنے والے دو افغان صحافیوں کو بین الاقوامی فورسز نے طالبان کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

افغانستان میں نیٹو فورسز نے ان دونوں صحافیوں کو پیر اور بدھ کے روز ان کے گھروں سے الگ الگ چھاپوں میں گرفتار کیا۔ بین الاقوامی فورسز نے الزام لگایا کہ دونوں صحافی طالبان کو پراپیگنڈے کی سہولتیں فراہم کررہے تھے۔

خبررساں اداروں نے الجزیرہ سے تعلق رکھنے والے زیر حراست صحافیوں کی نشان دہی محمد نادر اور رحمت اللہ نیک زاد کے طورپر کی ہےجو الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پرپس سے فری لانسر کے طورپر منسلک تھے۔

انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس کے ایک ترجمان نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ طالبان اور شورش پسندوں کے ساتھ دونوں صحافیوں کے تعاون کی صورت یہ تھی کہ وہ انہیں اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں معلومات فراہم کرتے تھے۔

قطر میں قائم الجزیرہ نے بین الاقوامی فورسز سے دونوں صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ الجزیرہ نے ان گرفتاریوں کو اتحادی افواج کی جانب سے افغان جنگ کی جامع کوریج کی ایک کوشش قرار دیا۔

گرفتار صحافیوں کے خاندان کے افراد اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان پر طالبان سے رابطہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہےجو کہ غیر ملکی اور مقامی صحافیوں کے لیے ایک معمول کی بات ہے۔



XS
SM
MD
LG