رسائی کے لنکس

افغان حکام نے دیہاتیوں کو مسلح کرنا شروع کر دیا


افغان فوجی صوبہ ننگرہار میں دہشت گردوں کے خلاف کاررائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

مقامی عمائدین کی مدد سے بنائی جانے والی ملیشیا کو تورا بورا کے علاقے کی سیکیورٹی اور داعش کے جنگجوؤں کو علاقے سے دور رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

افغانستان کے دور افتادہ مشرقی علاقے تورابورا کے پہاڑی سلسلے میں، جہاں کسی زمانے میں اسامہ بن لادن نے پناہ لی تھی، داعش کے کنڑول سے آزاد سینکڑوں مقامی دیہاتیوں کا اندراج، اس دہشت گرد گروپ کے خلاف لڑنے والی ایک ملیشیا فورس کے طور پر کر لیا گیا ہے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کا ڈائریکٹوریٹ این ڈی ایس صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیرا گام کے درجنوں مقامی مردوں کو مسلح کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

اس علاقے کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب افغان فورسز نے امریکی فضائی مدد کے ساتھ حال ہی میں داعش کے جنگجوؤں کو علاقے سے نکال دیا ہے۔

صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ ہم نے ضلع پچیراگام کے علاقے میں 300 مقامی افراد کا اندراج کیا ہے جنہیں ہتھیار فراہم کر دیے گئے ہیں اور وہ جلد ہی اپنی ڈیوٹی سنبھال لیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سلامتی کے قومی ادارے نے فنڈز مہیا کیے ہیں جب کہ ہتھیار صوبائی حکومت کی طرف سے دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی عمائدین کی مدد سے بنائی جانے والی ملیشیا کو تورا بورا کے علاقے کی سیکیورٹی اور داعش کے جنگجوؤں کو علاقے سے دور رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

پچھلے مہینے داعش نے اس علاقے میں دیہاتوں اور أفغان طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ اس حملوں کے بعد مقامی آبادی داعش کو اپنے علاقے کے لیے ایک سنگین خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور وہ مسلح ہو نے کے بعد طالبان کے ساتھ مل کر داعش کو وہاں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔

تورابورا کے پہاڑی سلسلے میں غاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ یہ علاقہ دشوار گذار ہے جس کی وجہ سے ماضی میں القاعدہ نے وہاں اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔ انہیں وہاں سے بے دخل کرنے کے لیے امریکہ نے دسمبر 2001 میں اس پہاڑی سلسلے پر شدید بمباری کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG