رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے مذاکرات کا ابتدائی ایجنڈا تشدد کا خاتمہ ہو گا: افغان حکام


فائل فوٹو

افغان حکام نے واضح کیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے آغاز پر مکمل جنگ بندی کا معاملہ سب سے پہلے زیرِ غور آئے گا۔

افغان صدر اشرف غنی کے مشیر وحید عمر نے جمعرات کو کابل میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بتایا کہ بین الافغان مذاکرات کے دوران سب سے پہلے افغان مذاکراتی ٹیم طالبان پر زور دے گی کہ وہ فوری طور پر تشدد کا خاتمہ کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے گا جس کی پاسداری فریقین پر لازمی ہو گی۔

وحید عمر کا کہنا تھا کہ طالبان تشدد کو بطور ہتھیار اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی اب گنجائش نہیں ہے۔

ادھر افغان وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف واقعات میں آٹھ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

سینئر افغان تجزیہ کار ولی اللہ شاہین نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طالبان مذاکرات کے دوران افغانستان کے سیاسی مستقبل اور جنگ بندی کے معاملات پر افغان مذاکراتی ٹیم سے بات چیت پر آمادہ ہو جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ طالبان کے باقی ماندہ 400 قیدیوں کی رہائی کے بعد اب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کوئی بڑا مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذا اب بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔

دوسری جانب افغان حکام کا کہنا ہے کہ تاحال طالبان کے 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع نہیں ہوا۔

'بین الاافغان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:55 0:00

افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔

افغان حکومت نے طالبان کے 400 قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اگلے مرحلے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بین الافغان مذاکرات سے متعلق منگل کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان امن مذاکرات امریکہ سے ہونے والے معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنگ بندی ایک الگ موضوع ہے جس پر بین الافغان مذاکرات کے دوران بحث ہو گی اور اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ بین الافغان مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں اپنے باقی ماندہ 400 قیدیوں کی رہائی کا انتظار ہے۔

ادھر افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے دوران خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG