رسائی کے لنکس

logo-print

کنڑ میں داعش کے ٹھکانوں پر اتحادیوں کی کارروائی، 50 جنگجو ہلاک


فائل

افغانستان میں حکام نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ فوجی اتحاد کی جانب سے ملک کے مشرقی صوبے میں کی گئی فضائی کارروائیوں کے دوران داعش کے کم از کم 50 جنگجو ہلاک ہوئے، جب کہ مغربی ضلعے میں طالبان سرکشوں نے شدت پسند کارروائیاں کرتے ہوئے سرکاری افواج کے کم از کم سات اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ رات کو ہونے والی یہ فضائی کارروائیاں افغان بَری افواج کے ساتھ رابطے میں رہ کر کی گئیں۔ کارروائیوں کے دوران صوبہ کنڑ کے چپہ درہ کے خلفشار زدہ ضلعے میں داعش کے تربیتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹھکانے لگائے گئے جنگجوؤں میں غیر ملکی تھے، جن میں ازبک اور پاکستانی شامل ہیں۔

معاون صوبائی گورنر، گل محمد بیدار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ازبک قومیت سے تعلق رکھنے والا داعش کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔

اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ضلعے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی گئی، جن میں باغی طالبان اور دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند شامل تھے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والےاقوام متحدہ کے اداروں نے اطلاع دی ہے کہ چپہ درہ میں لڑائی جاری ہے، جہاں سے حالیہ ہفتوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں افغان خاندان محفوظ مقامات کی جانب بھاگ نکلے ہیں۔

کنڑ اور ہمسایہ صوبہ ننگر ہار کے کچھ علاقوں میں طالبان اور داعش عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہتے ہیں، جو بنیادی طور پر دائرہ اختیار بڑھانے کی ذاتی چپقلش ہے۔ یہ دونوں افغان صوبے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ملتے ہیں۔

علاوہ ازیں، مغربی افغان صوبہ بادغیس میں حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ قدیس کے ضلعے میں طالبان نے رات گئے سیکورٹی چوکیوں پر دھاوا بول دیا، جس دوران سات پولیس اہلکار ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

ادھر، مشرقی صوبہ غزنی میں جمعے کی رات افغان افواج اور بین الاقوامی فوجی اتحاد نے فضائی کارروائیاں کی ہیں، جس دوران بتایا جاتا ہے کہ آٹھ سویلین ہلاک ہوئے، جس واقع کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG