رسائی کے لنکس

داعش کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کی تلاش: افغان حکام


کابل

افغان سفیر احمد اللہ محب نے دولت اسلامیہ کے دہشت گرد گروپ کا متبادل عربی مخفف داعش استعمال کرتے ہوئے، کہا ہے کہ ''داعش کی زیادہ تر تعداد غیر ملکی لڑاکوں پر مشتمل ہے''۔ اس ہفتے واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے محب نے کہا کہ ''ملک میں موجود چند افغانوں کی موجودگی'' سے اس تعداد میں مزید اضافہ آیا ہے

عراق اور شام میں کمزور کیا جانے والا اور شکست خوردہ داعش کا دہشت گرد گروپ افغانستان میں اپنے لڑاکے پہونچا رہا ہے، اپنی موجودگی کو پختہ کرنے کی غرض سے اور شاید ایک نیا ٹھکانہ تیار کرنے کے لیے، جہاں سے مغرب اور روس دونوں کے خلاف حملے کیے جا سکیں۔

افغان اہل کاروں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ ملک میں اس وقت دولت اسلامیہ کے 3000 تک غیر ملکی لڑاکے موجود ہیں، جن میں سے متعدد پاکستان اور ازبکستان سے وارد ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب عراق اور شام سے داعش کے عسکریت پسند پسپائی اختیار کر رہے ہیں، وہ وہاں سے بھاگ کر پھر سے یکجا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کی تعداد میں مزید اضافہ آنے کا ڈر ہے۔

افغان سفیر احمد اللہ محب نے دولت اسلامیہ کے دہشت گرد گروپ کا متبادل عربی مخفف داعش استعمال کرتے ہوئے، کہا ہے کہ ''داعش کی زیادہ تر تعداد غیر ملکی لڑاکوں پر مشتمل ہے''۔

اس ہفتے واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے محب نے کہا کہ ''ملک میں موجود چند افغانوں کی موجودگی'' سے اس تعداد میں مزید اضافہ آیا ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ''طالبان، اِن میں سے کچھ دھڑے، اور شدت پسندی پر تُلے ہوئے عناصر، جو شدید بپھرے ہوئے ہیں، وہ بھی داعش میں شامل ہو رہے ہیں''۔

افغانستان میں دولت اسلامیہ کے بارے میں یہ تازہ ترین افغان تخمینہ، جسے صوبہ خوراسان میں داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اُس کے برعکس ہے جو ایک طویل مدت سے امریکہ اور اتحادی اہل کار کہتے آئے ہیں۔ یہ حکام، چوکنہ رہنے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کہ کہیں تشویش حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے، بتاتے رہے ہیں کہ دہشت گرد گروپ پسپائی اختیار کر رہا ہے۔

افغانستان میں داعش کو ہدف بنانا

خود امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے گذشتہ جولائی میں افغانستان میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے بتایا تھا کہ ''یہ درست سمت کی جانب بڑھ رہی ہے''، جس سے قبل صوبہ کنڑ میں کیے گئے ایک فضائی کارروائی میں اُس وقت خوراسان داعش کا سرغنہ، ابو سعید ہلاک ہوا تھا۔

میٹس نے اُس وقت کہا تھا کہ ''جب بھی آپ اِن گروپوں کے کسی لیڈر کو ہلاک کرتے ہو، اس سے وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں''۔

جولائی میں کیے گئے اس حملے سے قبل، اپریل میں کارروائی کی گئی تھی جس میں اس گروہ کے پچھلے امیر، عبدالحسیب مارا گیا تھا، جس جھڑپ کو امریکی حکام نے سنگین قرار دیا تھا، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں تین گھنٹے تک جاری رہی تھی۔

اس سے دو ہفتے قبل، 13 اپریل کو امریکہ نے ننگرہار میں داعش کے ایک مربوط زمین دوز راستے اور غار کو نشانہ بنایا تھا، جس کے لیے ہتھیاروں کے امریکی ذخیرے میں سے سب سے بڑا غیر جوہری بم 'جی بی یو 43' استعمال کیا تھا، جو 'میسو آرڈننس ایئر بلاسٹ بم' کا مخفف ہے۔

ان مربوط کوششوں کے نتیجے میں، امریکی اہل کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ افغانستان میں اس دہشت گرد گروپ کے تقریباً 3000 لڑاکوں کا صفایا کردیا گیا ہے اور اب یہ تقریباً 600 کے قریب باقی رہ گئے ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ اِن میں زیادہ تر دل شکستہ طالبان عسکریت پسند ہیں۔

تاہم، افغان حکام کی جانب سے اعلان کردہ نئے اندازوں کے مطابق، داعش نے نہ صرف ملک میں اپنی کمی کو پورا کر لیا ہے بلکہ چار ماہ کے متخصر وقت میں اُنھوں نے نئے لڑاکے تلاش کر لیے ہیں، جس میں سے کئی ایک عراق اور شام میں گروپ کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد ایک جگہ اکٹھے ہونے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG