رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن کانفرنس: 'افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں'


Afghan Peace Conference Bhurban June 22, 2019

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پرامن افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، پاک افغان ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے لیے سرکرداں قوتوں کا مل کر مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں پاکستان کا کوئی فیورٹ دھڑا نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ نے بھوربھن میں 'لاہور پراسیس' کے نام سے منعقدہ افغان امن کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سمیت ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے مفادات مشترک ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے فریقین کی جانب سے مسئلے کے سیاسی حل پر اتفاق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دیرپا امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کا بھی خواہاں ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان مین قیام امن کے لیے متعدد کوششیں جاری ہیں، دوحہ میں طالبان امریکہ مذاکرات ہو رہے ہیں جبکہ ماسکو فارمیٹ میں جرمنی کردار ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان، روس، چین اور ایران بھی قیام امن کے لیے جلد ایک مفاہمی عمل شروع کرنے والے ہیں ان تمام کاوشوں کا مقصد امن کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ اس دورے سے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

افغان مندوبین کے خطاب

کانفرنس میں شریک افغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ یہ جنگ صرف افغانستان کی نہیں بلکہ پاکستان کے بقا کی بھی جنگ ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان جنگ سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے، یہ جنگیں افغان عوام پر مسلط کی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ قوتوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے افغانستان کو استعمال کیا۔

حزب اسلامی کے رہنما واحد اللہ سبحوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے جو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہے اسے خوش آمدید کہیں گے۔

اپنے خطاب میں افغان رہنما حنیف آتمر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور پاکستان کو ریاستی سطح پر بات چیت کو فروغ دینا ہو گا۔

انھوں نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے جذبے کو بھی سراہا۔

امن کانفرنس میں افغانستان کے اہم سیاسی رہنما شریک ہیں۔
امن کانفرنس میں افغانستان کے اہم سیاسی رہنما شریک ہیں۔

حزب وحدت مردم افغانستان کے استاد محمد محقق نے کہا کہ روس کی مداخلت کے وقت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی نوعیت مختلف تھی۔ پاکستان نے دل کھول کر افغان عوام کی بھرپور مدد کی۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کیں۔

افغان امن جرگہ کے سربراہ محمد کریم خلیلی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے تعاون سے ہی دیرپا امن ممکن ہے۔

کانفرنس میں افغانستان کے متعدد ارکان اسمبلی بھی شریک ہیں ماہرین کے مطابق اس کانفرنس سے مستقبل کی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

کانفرنس میں افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پراسیس میں مستقبل میں طالبان کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔

یہ کانفرنس افغان صدر کے دورہ پاکستان سے قبل ہو رہی ہے، صدر اشرف غنی رواں ماہ 27 جون کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG