رسائی کے لنکس

بدھ کا مہلک دہشت گرد حملہ اور افغان امن اجلاس کی تیاری


کابل، حکومت مخالف مظاہرہ

اختلافات ایسے میں سامنے آئے ہیں جب افغان حکومت نے ’’تنازع کے کلیدی علاقائی اور عالمی فریق‘‘ پر زور دیا ہے کہ وہ منگل کے روز کابل میں ہونے والے ’’امن اجلاس‘‘ کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں

نور زاہد

گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والا مہلک بم حملہ جس میں کم از کم 90 افراد ہلاک جب کہ 450 زخمی ہوئے، اور پھر روزانہ نکلنے والے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں، جنگ کے شکار افغانستان میں امن لانے کی حالیہ کوششوں کے بارے میں شدید شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔

یہ اختلافات ایسے میں سامنے آئے ہیں جب افغان حکومت نے ’’تنازع کے کلیدی علاقائی اور عالمی فریق‘‘ پر زور دیا ہے کہ وہ منگل کے روز کابل میں ہونے والے ’’امن اجلاس‘‘ کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں۔ اجلاس گذشتہ بدھ کو ہونے والے بم حملے کے مقام سے زیادہ دور نہیں، جس میں غیر ملکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

افغانوں کو امید تھی کہ باغی طالبان کے ساتھ امن کی کوشش کے سلسلے میں بیرونی حمایت کا حصول ممکن ہوگا، جس سے افغان حکام کو اپنی جانب سے شروع کردہ عمل پر کنٹرول حاصل ہوگا، جو کئی برسوں سے رُکا ہوا ہے، جس کا سبب حکومت کی جانب سے اقدام کی کمی، بدعنوانی اور طالبان کے تعاون میں سردمہری کا رویہ شامل ہے۔

جاوید فیصل افغان چیف اگزیکٹو کے ترجمان ہیں۔ اُنھوں نے گذشتہ ہفتے اجلاس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا ہدف یہ ہے کہ اِن تمام سرگرمیوں اور کوششوں کو مربوط بنایا جائے، جو مختلف ملکوں کی جانب سے کی گئی ہیں، تاکہ افغانستان میں امن قائم کیا جا سکے‘‘۔

یہ کہتے ہوئے کہ اجلاس کو ’’کابل عمل‘‘ کا نام دیا جائے گا، فیصل نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ’’افغانستان (امن) عمل کی سرپرستی کرے، اور یہ کہ افغانستان میں امن کے لیے ہونے والی کوئی بھی کوشش، حکومتِ افغانستان کی تحویل اور قیادت میں ہونی چاہیئے‘‘۔

بتایا جاتا ہے کہ افغان حکومت نے امریکہ، یورپی یونین، پاکستان، روس، چین اور سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ اپنے نمائندے بھیجیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اجلاس ’’رسمی عمل‘‘ نہیں ہوگا، لیکن یہ اُس تحرک کی ابتدا ہوگی جس کا مقصد دیرپہ امن کے اُس عزم کا اظہار ہے جس سے خطے کو بھی فائدہ ہوگا۔

کابل کو توقع ہے کہ گلبدین حکمت یار کی قیادت والا حزب اسلامی کا سرکش گروپ طالبان راہنماؤں کی حوصلہ افزائی کا بھی باعث بن سکتا ہے کہ وہ تشدد کی راہ چھوڑ کر سیاسی مفاہمت کی کوششوں میں شریک ہوں۔

لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بدھ کے روز ہونے والا بم حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

افغانستان اور عراق میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر، زلمے خلیل زاد نے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’حملہ اس نوعیت کا تھا کہ اس سے صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ افغانوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہوئی، جسے عام معاملہ خیال نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کو اب ایسی مزید حرکات کو برداشت نہیں کرنا چاہیئے‘‘۔

چند برس قبل افغانستان نے طالبان گروپ کے ساتھ امن عمل کی ابتدا کی تھی، لیکن یہ تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔

صدارتی ترجمان نے پیر کے روز ’ریڈیو لبرٹی‘ کو بتایا ہے کہ انٹیلی جنس حکام نے ایک خودکش بم حملہ آور کو پکڑا لیا ہے جنھیں طالبان نے اجلاس میں خلل ڈالنے کے لیے بھیجا تھا۔

چند علاقائی ملک افغانستان میں امن کے فروغ کی کوششوں میں مدد دے رہے ہیں۔

اس سال روس نے ماسکو میں مذاکرات کے چند دور منعقد کیے ہیں جن کا مقصد افغان سکیورٹی کو فروغ دینے اور طالبان کے ساتھ حکومتی قیادت والی قومی مفاہمت کے لیے ’’علاقائی انداز‘‘ اپنانے پر زور دینا ہے۔

امریکہ اور چین نے افغانستان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے چار فریقی رابطہ گروپ کے زیر سایہ امن عمل شروع کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔

لیکن، طالبان نے کابل کے ساتھ امن مذاکرات کو مسترد کیا ہے۔ اُنھوں نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ امن سمجھوتا طے کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ’’دشمن‘‘ کے سامنے ہتھیار ڈالے جائیں، جو اسلامی عقیدے کے برخلاف معاملہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG