رسائی کے لنکس

logo-print

موثر پالیسی سے ہی 16 سالہ پرانے أفغان تنازع کا حل ممکن ہے، تجزیہ کار


افغان کمانڈوز ضلع اچن میں عسکریت پسندوں کے خلاف مورجہ بند بٹھے ہیں۔ مئی 2017

پروگرام’ جہاں رنگ ‘میں گفتگو کرتے ہوئے، سمیع یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حکومت چاہتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو الگ رکھتے ہوئے افغانستان کے لئے حکمت عملی ترتیب دے، جبکہ امریکہ کے خطے کے لئے مخصوص تحفظات ہیں اور وہ پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔

اطلاعات کے مطابق، امریکہ مزید چار ہزار فوجی افغانستان بھیجے گا۔ پروگرام’ جہاں رنگ ‘میں افغان تجزیہ کار سمیع یوسف زئی اور پاکستانی امریکی تجزیہ کار محسن ظہیر نے صورت حال کا تجزیہ کیا۔

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت چاہتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو الگ رکھتے ہوئے افغانستان کے لئے حکمت عملی ترتیب دے، جبکہ امریکہ کے خطے کے لئے مخصوص تحفظات ہیں اور وہ پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی ٹھوس حکمت عملی ممکن ہوگی۔

محسن ظہیر کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے آیا فوجیوں کی تعداد میں اضافہ صور ت حال کو بہتر بنانے میں کوئی موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے خیال میں افغانستان کے لئے بنائی جانے والی پالیسی کے نتیجے میں وہاں 16 سال سے جاری لڑائی کو ختم ہونا چاہیئے، تاکہ خطے کے مسائل حل ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان اور انتہا پسند عوامل کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے مصالحت کی کوششیں ضروری ہیں۔

تفصيل کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

Tackling 16-year dispute requires devising of an effective Afghan policy: Analysts
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:28 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG