رسائی کے لنکس

امن عمل آگے بڑھا تو طالبان کو دفتر کھولنے دیں گے، اشرف غنی


کانفرنس، جسے’امن و سلامتی میں تعاون کے کابل عمل‘ کا نام دیا گیا ہے، میں 26 ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔

افغان صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر طالبان کو ’’باہمی اتفاق رائے‘‘ سے طے کردہ مقام پر امن مذاکرات کی دعوت دی ہے؛ باغیوں سے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ اگر قابل قدر پیش رفت ہوتی ہے تو بالآخر اُنھیں ایک نمائندہ دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔

غنی نے منگل کو یہ پیش کش کابل میں منعقدہ امن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی ساجھے داروں نے شرکت کی، جس کا مقصد افغانستان میں مہلک تنازعے کا خاتمہ لانے کا طریقہٴ کار وضع کرنے اور داعش کے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے علاقائی خطرے سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے گفت و شنید کرنا ہے۔

غنی کے الفاظ میں، ’’ہم اِس بات کو تسلیم کریں گے چاہے امن مذاکرات کا مقام کوئی بھی ہو، جس پر باہمی طور پر اتفاق کیا جائے، آیا یہ کابل ہو، جس کی ہم ضمانت فراہم کریں گے، یا کہیں اور۔ دونوں فریق قابلِ قبول امن کا نظام الاوقات تشکیل دیتے اور طے کرتے ہیں، تو ہم طالبان گروپوں کو اس بات کی اجازت دیں گے کہ وہ نمائندہ دفتر کھولیں، تاکہ دونوں فریق بحفاظت مل سکیں‘‘۔

کانفرنس، جسے’امن و سلامتی میں تعاون کے کابل عمل‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں 26 ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔

یہ اجلاس مشکلوں میں گھرے ملک میں منعقد ہوا، جس کا برسوں کی بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے اور سنہ 2001سے اب تک کی طالبان کی غیر معمولی معرکہ خیز آرائی پر مبنی پیش قدمی دیکھی گئی ہے۔

افغان اہل کاروں نے بتایا ہے کہ منگل کو ملک کے مغربی شہر، ہیرات کی ایک جامع مسجد میں ایک طاقتور بم پھٹا، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور طالبان ترجمان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

'کابل پروسس' افغان حکومت کی جانب سے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ایک نئی بین الاقوامی کوشش ہے۔

پیر کو کابل میں ہونے والے پہلے اجلاس میں 23 ملکوں اور یورپی یونین، اقوامِ متحدہ اور نیٹو جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں افغانستان میں سکیورٹی اور سیاسی صورتِ حال بہتر بنانے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جارہا ہے۔

افغان حکومت اس سے قبل بھی کئی بار طالبان کو مذاکرات کی دعوت دے چکی ہے جن کی مسلح جدوجہد 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے مسلسل جاری ہے اور حالیہ چند برسوں کے دوران اس میں شدت آئی ہے۔

طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد ہی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں۔

پیر کو اپنے خطاب میں صدر اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ وہ افغانستان کے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ مضبوط سیاسی اور معاشی تعلقات قائم کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن ان کے بقول افغانستان کو پاکستان کی جانب سے مسلسل غیر اعلانیہ جارحیت کا سامنا ہے۔

صدر غنی نے کانفرنس کے شرکا سے سوال کیا کہ پاکستان کو کس طرح اس بات پر قائل کیا جائے کہ ایک مستحکم افغانستان، خود پاکستان اور پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا مسئلہ اور چیلنج یہ ہے کہ وہ نہیں جانتی کہ پاکستان آخر چاہتا کیا ہے؟

اس کانفرنس کے آغاز سے ایک روز قبل افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل کے حساس سفارتی علاقے میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ٹرک بم حملے میں استعمال ہونے والا گولہ بارود پاکستان سے لایا گیا تھا۔

وزارت کے ایک ترجمان نجیب دانش نے پیر کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ افغانستان میں ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی طرح حالیہ حملے کا مرکزی منصوبہ ساز بھی پاکستان ہی ہے۔

حملے میں لگ بھگ 100 افراد ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہوئے تھے اور یہ افغانستان کی تاریخ کے چند بڑے بم حملوں میں سے تھا۔

پاکستان نے حملے کی مذمت کی تھی اور حملے میں ملوث ہونے کے افغان حکام کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG