رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا طریقہٴ کار مرتب کر لیا: افغان صدر


اپنے خطاب میں صدر اشرف غنی نے ان چار رہنما اصولوں کا بھی ذکر کیا، جو ان کے بقول، طالبان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد ہوں گے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ملک میں 17 برس سے جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے اُن کی حکومت نے طالبان باغیوں سے مجوزہ امن مذاکرات کے لیے ’’طریقہٴ کار ترتیب دیا ہے‘‘۔

غنی نے یہ بات بدھ کے روز جنیوا میں افغانستان پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تفصیلی قومی صلاح و مشورے کے بعد درکار تنظیموں اور طریقہٴ کار طے کر لیا گیا ہے۔

غنی نے وعدہ کیا کہ اُن کی حکومت افغان امن عمل کے نئے دور کی جانب قدم بڑھائے گی، جس کا مقصد سمجھوتے تک پہنچنا ہے، جس میں طالبان کو ’’جمہوری اور سب کی شراکت والے معاشرے کا حصہ بنایا جائے گا‘‘۔

اُنھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس ضمن میں جن رہنما اصولوں کو پیش نظر رکھا جائے گا اُن میں تمام شہری، خصوصی طور پر خواتین کے لیے، تمام آئینی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی؛ جب کہ وہ مسلح گروہ جن کے بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مراسم ہیں اُنھیں اس عمل کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ ادھر آئینی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے، یا تو آئین کو منظور کیا جائے گا یا پھر اس میں مجوزہ ترامیم وضع کی جائیں گی۔

صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے 12 افراد پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

صدر غنی نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ کمیٹی میں مرد اور خواتین دونوں کی نمائندگی ہے اور اس کی سربراہی صدر کے چیف آف اسٹاف عبدالسلام رحیمی کریں گے۔

اپنے خطاب میں صدر اشرف غنی نے ان چار رہنما اصولوں کا بھی ذکر کیا جو ان کے بقول طالبان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد ہوں گے۔

ان اصولوں میں افغان آئین کا احترام کرنے اور افغانستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی "دہشت گرد" یا جرائم پیشہ گروہ کی مداخلت مسترد کرنے کے نکات شامل ہیں۔

افغان حکومت ماضی میں بھی بارہا کسی پیشگی شرط کے بغیر طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرچکی ہے لیکن افغان طالبان کا مؤقف رہا ہے کہ کابل حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے جس سے بات چیت نہیں ہوگی۔

اس کے برعکس افغان طالبان امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر نہ صرف آمادہ رہے ہیں بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ چند ماہ کے دوران پسِ پردہ رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

افغان صدر کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی نامزدگی بھی بظاہر امریکہ کے دباؤ پر عمل میں آئی ہے جس کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد افغان صدر سے طالبان کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے اعلیٰ افغان حکام کی نامزدگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

زلمے خلیل زاد گزشتہ دو ماہ کے دوران کم از کم دو بار قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغان طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کرچکے ہیں۔

رواں ماہ اپنے دورۂ کابل کے دوران زلمے خلیل زاد نے امید ظاہر کی تھی کہ طالبان کے ساتھ اپریل 2019ء تک امن معاہدہ طے پاجائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ طالبان کے ساتھ ابتدائی رابطوں کے بعد اب امریکہ مذاکرات میں افغان حکومت کے نمائندوں کی شرکت بھی چاہتا ہے اور لگ رہا ہے کہ امریکی حکام نے طالبان کو بھی اس پر آمادہ کرلیا ہے۔

بدھ کو جنیوا میں جاری کانفرنس کے دوران اقوامِ متحدہ کے معاون نائب سیکریٹری جنرل روزمیری اے ڈی کارلو نے عالمی ادارے کے سربراہ انتونیو گوتیرس کا ایک پیغام بھی پڑھ کر سنایا جس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست بات چیت کا عندیہ دیا گیا تھا۔

بیان میں انتونیو گوتیرس کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست بات چیت کا ایک منفرد موقع آیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG