رسائی کے لنکس

بین الافغان مذاکرات ناکام ہوئے تو امن معاہدہ غیر مؤثر ہو گا: امریکہ


(فائل فوٹو)

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے امریکی حکام نے کہا ہے کہ طالبان اور افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مارچ کے پہلے ہفتے میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہو گا۔ اگر بین الافغان مذاکرات ناکام ہوئے تو امن معاہدہ بھی غیر مؤثر ہو گا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں صحافیوں کو دی گئی بریفنگ میں محکمہ خارجہ کے اعلٰی عہدے داروں نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ مارچ میں طالبان، افغان حکومت، اپوزیشن، سول سوسائٹی، خواتین کے حقوق کے علمبردار گروپ بھی اوسلو میں جمع ہوں گے۔ جہاں وہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے مذاکرات کریں گے۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہ بین الافغان مذاکرات ہوں گے اور امریکہ کی بھی اس میں نمائندگی ہو گی۔

اگر امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا؟

بریفنگ کے دوران امریکی عہدے دار سے پوچھا گیا کہ اگر امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو کیا پھر بھی امریکہ اپنی فوج کا انخلا جاری رکھے گا؟ جس پر اعلٰی عہدے دار نے جواب دیا کہ امریکی فوج کا انخلا امن معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا اور مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ بھی فوج کے انخلا کا پابند نہیں ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ "اگر افغان فریقین کسی سمجھوتے پر متفق نہ ہوتے تو امریکہ بھی اپنے فوجی نکالنے کا پابند نہیں ہو گا۔"

کیا امریکہ طالبان سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرے گا؟

امریکی عہدے دار سے سوال ہوا کہ کیا معاہدے کے تحت امریکہ طالبان کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرے گا۔ جس کے جواب میں عہدے دار نے کہا کہ معاہدے کی بعض شرائط عام نہیں کی جائیں گی۔

لیکن، ان شرائط میں ایسی کوئی بات شامل نہیں جس میں امریکہ نے طالبان کو کچھ یقین دہانیاں کرائی ہوں۔ لیکن کچھ معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں خفیہ رکھا جائے گا۔

کابل کے سیاسی تنازع کا کیا ہو گا؟

بریفنگ کے دوران عہدے دار سے پوچھا گیا کہ کابل میں جاری سیاسی کشمکش سے امریکہ کس طرح نبرد آزما ہو گا؟

خیال رہے کہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان صدارتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے تنازع جاری ہے۔ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کر رکھا ہے۔

امریکی عہدے دار نے جواب دیا کہ بین الافغان مذاکرات میں کثیر الجہتی نمائندگی ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ تمام گروپ ان مذاکرات میں شریک ہوں۔ جن کے افغانستان کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک حکومت سازی کا تعلق ہے۔ افغان حکومت اور عوام اپنے مروجہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق اس پر کام کر رہے ہیں۔

عہدے دار نے واضح کیا کہ امریکہ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ بین الافغان مذاکرات میں تمام آوازوں کی نمائندگی ہو اور یہ دیرپا امن اور سیاسی تصفیے کے لیے ناگزیر بھی ہے۔

معاہدے کے تحت خواتین کو تحفظ ملے گا؟

امریکی عہدے داروں سے پوچھا گیا کہ بین الافغان مذاکرات کے دوران خواتین کے حقوق کا کتنا خیال رکھا جائے گا؟ جس پر عہدے دار نے جواب دیا کہ بین الافغان مذاکرات کی میز پر خواتین کی نمائندگی ہو گی۔ لہذٰا یہ ہماری اولین ترجیح ہو گی کہ افغانستان کے سیاسی مستقبل میں خواتین کو حقوق اور اُنہیں مکمل تحفظ حاصل ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کی تعمیر نو کے عمل میں امریکہ کے علاوہ دیگر اقوام بھی شامل ہوں گی۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو اور یہ امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔

امریکی فوج کے انخلا کا شیڈول کیا ہو گا؟

امن معاہدے کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق عہدے دار نے کہا کہ اس حوالے سے افغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر واضح کر چکے ہیں۔

اُن کے بقول اسکاٹ ملر بتا چکے ہیں کہ افغانستان میں موجود فوج کا حجم 13 ہزار سے کم کر کے 8600 پر لایا جائے گا۔

لیکن باقی ماندہ فوج کے انخلا سے متعلق عہدے دار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مکمل امن، افغان دھڑوں کے درمیان سیاسی تصفیہ، عالمی امدادی اداروں کے تحفظ تک حتمی شیڈول نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ ابھی بھی بہت سا سفر طے کرنا باقی ہے۔

بین الافغان مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار ہو گا؟

امریکی عہدے دار سے پوچھا گیا کہ امن معاہدے میں پاکستان کا کیا کردار تھا۔ اس پر عہدے دار نے جواب دیا کہ پاکستان کا اس سارے عمل میں اہم کردار رہا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے جب یہ امن عمل شروع کیا اس وقت بھی پاکستان کا تعاون شامل رہا ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کے معاملہ ہو یا امن عمل کے حوالے سے دیگر کاوشیں پاکستان کا کردار اہم رہا ہے۔

"امن معاہدے سے قبل تشدد میں خاتمے کے عارضی سمجھوتے پر عمل درآمد میں بھی پاکستان کا کردار تھا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب کچھ آسان نہیں ہے۔ ان دونوں کی ایک طویل اور مشکل تاریخ ہے۔"

"البتہ ہمیں امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مستقبل میں بھی ہمیں پاکستان کا تعاون اور کوششیں درکار ہوں گی۔"

کیا ایران معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟

بریفنگ کے دوران امریکی عہدے دار سے سوال ہوا کہ بعض رپورٹس کے مطابق ایران طالبان کی مدد کر کے امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ کیا امریکہ کو اس کا ادراک ہے؟

امریکی عہدے دارے نے جواب دیا کہ بلاشبہ بعض ایسے ممالک ہیں جن کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ہے اور وہ افغانستان میں اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔

لیکن تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو نائن الیون کے بعد کبھی بھی افغانستان امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی وجہ نہیں بنا۔ لیکن ہم نے طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کوئی بھی ایسا اقدام برداشت نہیں کرے گا جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG