رسائی کے لنکس

’مزید افغان مہاجرین کی پاکستان آمد پر بین الاقوامی مدد بہت زیادہ ضروری ہے‘


اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت افغانستان میں عملی کنٹرول طالبان کا ہے اور ملک میں غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔ (فائل فوٹو)

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے افغانستان کے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرحدیں کھلی رکھیں کیوں کہ افغانستان کی صورتِ حال کی وجہ سے شہری تحفظ اور پناہ کی تلاش میں ان ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت افغانستان میں عملی کنٹرول طالبان کا ہے اور ملک میں غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔

انہوں نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب 10 روز قبل 15 اگست سے طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا کنٹرول حاصل کیا ہے جس کے بعد ایک بڑی تعداد میں افغان شہری اپنا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔

قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑی تعداد میں افغان شہریوں کے پڑوسی ممالک کا رخ کرنے کی اطلاعات نہیں ہیں البتہ اندرونِ ملک بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے یو این ایچ سی آر کی توجہ افغانستان کے اندر بے گھر ہونے والے لوگوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں رواں برس لگ بھگ ساڑھے پانچ لاکھ شہری گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان میں 50 فی صد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ان کے بقول اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کی صورتِ حال اگر مستحکم نہیں رہتی تو بڑی تعداد میں افغان شہری گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔

افغانستان میں اس سال کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:30 0:00

یو این ایچ سی آر کے ترجمان کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے افغان مہاجرین پاکستان آئیں گے۔

اسلام آباد میں حکام اگرچہ یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے وہ مزید افغان مہاجرین کی میزبانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب پاکستان کے نجی نشریاتی ادارے ’جیو نیوز‘ نے کمشنر برائے افغان مہاجرین خیبر پختونخوا محمد عباس خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان نے مزید افغان مہاجرین کو آنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ کوئی انسانی المیہ ہوا تو پاکستان نے اس کے لیے انتظامات کیے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد نے افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے تین سرحدی علاقوں میں مہاجرین کیمپ قائم کرنے کے لیے مقامات کی نشاندہی کر لی ہے جہاں افغانستان سے آنے والے مزید مہاجرین کی عارضی طور پر رکھا جا سکتا ہے۔ البتہ باضابطہ طور پر حکام نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

یو ان ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یو این ایچ سی آر کو کیمپ کے حوالے سے ابھی تک کسی منصوبے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ ان کے بقول یہ حکومتِ پاکستان کہ صوابدید ہے کہ وہ کیمپ کہاں قائم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کی خواہش ہے کہ جہاں بھی یہ کیمپ قائم کیے جائیں گے وہ ایک محفوظ مقام ہو تاکہ یہاں عارضی سکونت اختیار کرنے والے مہاجرین محفوظ رہ سکیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران سمیت افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک میں مزید افغان مہاجرین کی آمد پر ان کی بین الاقوامی مدد بہت زیادہ ضروری ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، جو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے دورے پر ہیں، کہہ چکے ہیں کہ مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کہ فی الحال بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی آمد کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کتنے لوگ پاکستان، ایران یا وسط ایشیائی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں ۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG