رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے سے قبائلی علاقوں میں کاروبار ختم ہو جائے گا؟


پاکستان اور افغانستان کا سرحدی علاقہ لنڈی کوتل 70 کی دہائی میں سر سبز و شاداب ہوا کرتا تھا۔ ملک کے باقی حصوں کی طرح یہاں بھی کھیتی باڑی ہوتی تھی۔ لیکن، پھر 80 کی دہائی کے آخر میں افغان-روس جنگ کے باعث خطّے کی صورتِ حال بدل گئی.

افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ افغانستان سے مختلف اشيا کی آمد بھی شروع ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جہاں ماضی میں مقامی سطح پر افغان کرنسی کا چھوٹا سا کاروبار ہوا کرتا تھا اس کی جگہ اسمگلنگ نے لے لی۔

لوگوں نے کھیتی باڑی چھوڑ دی اور نئے کاروبار سے منسلک ہو گئے، جس ميں کپڑا، ميوہ جات، اليکٹرانک آلات سمیت کلاشن کوف اور ہيروئن وغيرہ شامل تھیں۔

پاکستان نے 2017 ميں 2600 کلو ميٹر طویل افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فيصلہ کيا، تاکہ سرحد کی دوسری جانب سے دہشت گردوں کے حملوں اور آمد کو روکا جا سکے۔

سيکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ باڑ لگنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات ميں نماياں کمی آئی ہے۔ ليکن، پاک-افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں کے رہائشيوں کا کہنا ہے کہ اس ضمن ميں ان کا کاروبار مکمل طور پر مفلوج ہو گيا ہے۔

خيبر ايجنسی کی تحصيل لنڈی کوتل ميں محمد وزير شنواری پرچون کا کاروبار کرتے ہيں۔ بارڈر مينجمنٹ سسٹم سے قبل وہ افغانستان میں طورخم بارڈر کے ذریعے با آسانی کاروبار کرتے تھے۔

محمد وزير شنواری يہاں سے آٹا، چاول، چينی سميت متعدد اشیا افغانستان برآمد کرتے تھے اور وہاں سے گھی، خشک ميوہ جات وغيرہ لاتے تھے۔

ياد رہے کہ بارڈر مينجمنٹ سسٹم کے تحت اب ہر شہری کو پاسپورٹ اور ويزا لازمی درکار ہوتا ہے۔

'وائس آف امريکہ' سے بات کرتے ہوئے محمد وزير شنواری نے بتايا کہ جب سے پاک–افغان بارڈر پر باڑ لگی ہے اور آنے جانے کے لیے سفری دستاويزات لازمی قرار دی گئی ہیں، اس کے بعد سے قبائلی عوام کی معاشی حالت ابتر ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق، پہلے يہاں تحريکِ طالبان کے خلاف پاکستانی فوج نے بے شمار آپريشن کیے جس کی وجہ سے علاقے ميں ہر طرف خوف و ہراس رہتا تھا۔ اور اب بارڈر مينجمنٹ سسٹم لاگو ہو گيا ہے جس سے مقامی لوگوں کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گيا ہے۔

محمد وزير شنواری کے مطابق، يہاں نہ تو زراعت کا کام ہے اور نہ ہی کارخانے ہیں۔ طورخم بارڈر سے کاروبار کی بندش کے بعد سے بے روزگاری ميں اضافہ ہو رہا ہے جس سے قبائلیوں کی معاشی پريشانیاں بڑھ رہی ہیں۔

ان کے مطابق، پہلے جب ہم شام کو گھروں کو جاتے تھے تو ہر طرف خوش حالی ہوتی تھی۔ بچے، بيوی اور والدين سب کی زندگياں خوش حال تھيں۔ ليکن، اب ايسا نہیں ہے۔

انہوں نے مزيد کہا کہ وزيرِ اعظم عمران خان کو ان کی پريشانيوں کا تدارک کرنا ہو گا۔ ورنہ انہيں خدشہ ہے کہ کہيں ايسا نہ ہو کہ نوجوان نسل بے روزگاری کی وجہ سے شدت پسندی کی جانب مائل ہو جائيں۔

يہ مسائل صرف محمد وزير شنواری تک محدود نہیں ہيں۔ حاجی اوار دين لنڈی کوتل کے بازار ميں ايک ہوٹل چلاتے ہيں۔ ان کے مطابق، ان کا کاروبار مکمل طور پر تباہی کی نہج پر ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ جب سے طورخم بارڈر پر سختی ہوئی ہے، ان کا کاروبار منافع بخش نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب نقل و حمل آزاد تھی تو مال مويشی آسانی سے آر پار جا سکتے تھے اور عمومی فيس وہ خاصہ دار فورس کو ديتے تھے۔ لیکن، اب صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔

ان کے بقول، اب انہيں چار گنا زيادہ ٹيکس دينا پڑتا ہے، جس کے بعد مال مويشی اب نہ صرف ان کی دسترس سے باہر ہو گئے ہيں اور گاہک بھی ان کے ہوٹل کا رخ کم ہی کرتے ہيں۔

وزير شنواری کے مطابق، افغان يہاں گزشتہ 40 سال سے آباد ہيں اور لوگوں کی اب رشتہ دارياں بھی قائم ہو گئی ہيں، کيوں کہ بارڈر کے دونوں اطراف زيادہ تر ايک ہی قبيلے کے لوگ رہتے ہيں جنہیں باڑ نے جدا کر ديا ہے۔

عطااللہ خان کا تعلق باجوڑ کی تحصيل ماموند سے ہے۔ باجوڑ آٹھ تحصيلوں پر مشتمل ضلع ہے جب کہ سرحد پار افغانستان کا کنڑ کا علاقہ اس سے متصل ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے عطااللہ خان نے بتايا کہ باڑ لگانے سے ان کا علاقہ بہت متاثر ہوا ہے۔

ان کے مطابق، باجوڑ ميں دو قوميں، ترکانی اور عثمان خيل، آباد ہيں۔ باجوڑ کی آٹھ تحصيلوں ميں سے چھ ترکانی قوم پر مشتمل ہيں جب کہ بارڈر کے اُس پار سات تحصيلوں ميں ترکانی قوم آباد ہے۔

عطااللہ خان کے مطابق، روس کے ساتھ جنگ کے بعد افغانستان سے متاثرين ترکانی قوم کے علاقوں ميں آباد ہوئے جس سے دونوں کے درميان رشتے داری بھی ہوئی۔

ان کے بقول، اس علاقے میں برف باری زيادہ ہوتی ہے تو يہاں کے لوگ اپنے مال مويشی سرديوں ميں سرحد پار چرانے کے لیے بھيج ديتے تھے۔ ليکن، اب ايسا ممکن نہیں ہے۔

ان کے مطابق، سرحد پار ان کی مشترکہ زمينيں ہيں اور وہ وہاں سے کپاس، گندم اور جو سميت متعدد فصليں لايا کرتے تھے، جو اب ان کی نہيں رہيں، جس سے علاقے کے مکين بہت زيادہ نقصان کا شکار ہيں۔

پاکستانی فوج اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ ميڈيا سے بات کرتے ہوئے پشاور کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مظہر شاہين کا کہنا تھا کہ باڑ کا مقصد ہر گز دو قوموں يا رشتہ داريوں کو تقسيم کرنا نہیں ہے۔

باڑ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد دہشت گردی روکنا ہے اور اس ضمن ميں کافی کاميابی بھی ملی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات ميں نماياں کمی بھی اب قوم کے سامنے ہے۔

ان کے مطابق، مستقبل ميں عوام کی سہولت کے لیے مختلف علاقوں ميں کراسنگ پوائنٹس بھی کھولے جائيں گے، تاکہ بارڈر کے دونوں اطراف کے خاندان آپس ميں طورخم بارڈر کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی مل سکيں۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG