رسائی کے لنکس

افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی پر خطرات کا سامنا


زبردستی وطن واپسی کے خلاف افغان پناہ گزینوں کا برلن میں مظاہرہ۔ فائل فوٹو
زبردستی وطن واپسی کے خلاف افغان پناہ گزینوں کا برلن میں مظاہرہ۔ فائل فوٹو

یورپی یونین کے 2015 اور 2016 کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ملکوں سے افغانوں کی واپسی کی تعداد لگ بھگ تین گنا ہو چکی ہے، جو تین ہزار سے ساڑھے نو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق یورپی ملک پناہ کی تلاش میں آنے والے ان ہزاروں افغانوں کو یہ جانتے ہوئے بھی زبردستی ان کے وطن واپس بھیج رہے ہیں کہ وہاں انہیں اذیت رسانی، اغوا، موت اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں کا خطرہ لاحق ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ ملک سے زبردستی نکالے جانے کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی ایک شدید خلاف ورزی ہے۔

بیشتر تارکین وطن کو یورپ کے سفر میں مہینوں لگے تھے ۔ لیکن ان کی افغانستان واپسی کا راستہ کئی گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ ان تارکین وطن کو اس سال کے شروع میں جرمنی کے شہر ميونخ سے پروازوں کے ذریعے کابل بھیجا گیا تھا۔ یورپی یونین کے 2015 اور 2016 کےاعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ملکوں سے افغانوں کی واپسی کی تعداد لگ بھگ تین گنا ہو چکی ہے، جو تین ہزار سے ساڑھے نو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ایسے ملک میں واپس بھیجا جا رہا ہے جو ابھی تک جنگ کی گرفت میں ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کی اوڈری گوگرین کہتی ہیں کہ جب سے نگرانی شروع ہوئی ہے اس وقت سے 2016 کا سال ریکارڈ کے مطابق مہلک ترین سال تھا۔ اور 2016 میں وہاں 11 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ 2017 میں اقوام متحدہ اب تک سیکیورٹی کے 16 ہزار واقعات ریکارڈ کر چکا ہے۔ تو ا ب جب افغانستان میں صورتحال بگڑ رہی ہے لوگوں کوپہلے سے زیادہ تعداد میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ محمد جمشیدی کو کابل واپس بھیجا گیا تھا ۔ دوسرے بہت سے افغانوں کی طرح انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یورپ کے ہر کونے میں، شام کے لوگوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ انہیں رجسٹرڈ ہونے میں صرف تین ماہ لگتے ہیں لیکن افغانوں کو کئی سال جرمنی میں رہنے کے بعد ان کے ملک واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ملک واپس بھیجے جانے والے ایسے افغانوں کے واقعات کو اجاگر کیا ہےجو بم کے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔ دوسرے کئی افغان اپنے مذہبی یا جنسی رجحانات کی وجہ سے ہراساں کیے جانے خوف میں مبتلا رہے۔ متعدد کو افغانستان کے ایسے حصوں میں واپس بھیجا گیا جن کے بارے میں انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں تھا۔ یورپی حکومت ان واپسی کے جواز میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس ملک میں محفوظ علاقے موجود ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اوڈری گوگرین کہتی ہیں کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔ آپ افغانستان کے کسی بھی صوبے میں محفوظ نہیں ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ لوگوں کو افغانستان کے ایسے علاقوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی دیکھے ہی نہیں تھے اور جن کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔

جرمنی نے مئی میں کابل میں بم کے اس حملے کے بعد افغانوں کی واپسی میں ایک وقفہ دیا تھا، اس حملے میں ڈیڑھ سو لوگ ہلاک اور جرمن سفارت خانے کو نقصان پہنچا تھا۔ گذشتہ ماہ افغانوں کی وطن واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے ۔

جرمن وزارت داخلہ کے یک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہر افغان کی واپسی کا فیصلہ اس کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے اور یہ کہ حکومت ایمنسٹی کے اس دعوے سے اختلاف کرتی ہے کہ افغانستان میں محفوظ مقامات موجود نہیں ہیں ۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ وطن واپسی کے فیصلے رکن ملکوں کی حکومتیں کرتی ہیں نہ کہ برسلز۔

XS
SM
MD
LG