رسائی کے لنکس

پاکستان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک


افغان پناہ گزین پشاور میں اپنے اندراج کے منتظر ہیں۔ فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزین، پناہ کے متلاشیوں یا اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد گزشتہ برس ساڑھے چھ کروڑ سے زائد تک پہنچ گئی جو کہ 2015ء کی نسبت تین لاکھ زیادہ ہے۔

پیر کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان اب بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں ایسے افراد کی تعداد 14 لاکھ ہے۔

ترکی مسلسل تیسرے سال بھی سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا ملک ہے جہاں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 29 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں۔

پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔ لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری بغیر اندراج کے بھی غیر قانونی طور پر پاکستان کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔

ان پناہ گزینوں کے علاوہ ہزاروں خاندان ایسے بھی ہیں جو ملک کے قبائلی علاقوں میں شورش پسندی اور دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان کے مختلف حصوں میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔

دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے تازہ اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں یو این ایچ سی آر کے سربراہ گزینان فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ گو کہ گزشتہ سال کی تعداد دو برسوں میں سامنے آنے والی تعداد سے کم ہے لیکن یہ صورت حال ان کے بقول اب بھی بین الاقوامی سطح پر سفارتکاری کی مایوس کن ناکامی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایک فراموش کردہ بحران بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی مرحلہ وار رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپسی کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں ان کی یہاں موجودگی سے ان تحفظات اور خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ یہ ملکی وسائل پر اضافی بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے اکثر خاندان بھی شدت پسندوں کا صفایا ہونے کے باوجود صرف اس بنا پر قبائلی علاقوں میں واپسی پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے کہ وہاں ان کے لیے معمولات زندگی کو بحال کرنا سردست ممکن نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بحالی و تعمیر نو کے جاری عمل کے ساتھ ساتھ وہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

لیکن یو این ایچ سی آر کے سربراہ گرانڈی اور اس سے قبل مبصرین کی طرف سے بھی یہی زور دیا جاتا رہا ہے کہ تنازعات کو بڑھنے سے روکنے اور ان کے سیاسی حل کے لیے راہیں تلاش کر کے ہی اس انسانی المیے سے بچنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG