رسائی کے لنکس

’افغان خواتین کے حقوق خطرے میں‘


’افغان خواتین کے حقوق خطرے میں‘
’افغان خواتین کے حقوق خطرے میں‘

’افغان خواتین کے حقوق خطرے میں‘
’افغان خواتین کے حقوق خطرے میں‘

دو بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ ایسے وقت جب غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلا کی تیاری کر رہی ہیں، ملک میں خواتین کے حقوق کو خطرات لاحق ہیں۔

برطانوی تنظیموں اوکسفیم اور ایکشن ایڈ کا الگ الگ جائزہ رپورٹس میں کہنا ہے کہ 2001ء میں امریکہ کی سربراہی میں شروع کی گئی کارروائی کے بعد افغان خواتین کے حقوق میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن یہ صورت حال مستحکم نہیں۔

1990ء کی دہائی میں طالبان کے دور اقتدار میں خواتین کے نوکری کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور مرد کو ہمراہ لیے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی تھی۔

اوکسفیم کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً 27 بچیاں اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جب کہ طالبان کے دور میں یہ تعداد محض چند ہزار تھی۔

لیکن امدادی تنظیم کے مطابق صورت حال میں یہ بہتری بحالی امن کی کوششوں کے دوران بہت جلد ختم ہو سکتی ہے۔

اوکسفیم کی رپورٹ کی تیاری میں شامل لوئیز ہینکاک نے بتایا کہ افغان خواتین کے خیال میں طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں میں مصروف حکام سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ اُن کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

ایکشن ایڈ نے افغان خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں 10 سال سے جاری شورش کو ختم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔

تنظیم نے 1,000 خواتین سے جب اُن کی رائے معلوم کی تو اکثریت نے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ ان خواتین میں سے ایک تہائی کے خیال میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی صورت حال مزید خراب ہو گی۔

XS
SM
MD
LG