رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان معاہدے کے بعد طالبان حملوں میں تیزی کی اطلاعات


کابل

امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے بعد، افغانستان میں طالبان حملوں میں تیزی آئی ہے۔ خبر رساں ا دارے، رائیٹرز نے خبر دی ہے کہ طالبان نے پینتایس روز قبل، امریکہ کے ساتھ سجھوتے کے بعد، افغانستان میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ حملے کئے ہیں۔

رائیٹرز کا کہنا ہے کہ اس کے سامنے باوثوق ڈیٹا موجود ہے۔ مغربی افواج کا تیار کردہ ہے جبکہ دوسرا ایک آزاد و خود مختار ادارے نے ترتیب دیا ہے۔ دونوں ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال یکم مارچ سے لیکر پندرہ اپریل تک، طالبان حملوں میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ادھر افغان حکومت کے مرتب کردہ ڈیٹا سے بھی پتا چلتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران 900 سے زیادہ مقامی اور قومی افواج سے وابستہ ارکان ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ برس انہی مہینوں کے دوران تقریباً 520 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم، دوسری جانب اسی عرصے کے دوران،، طالبان کی ہلاکتوں میں کمی ہوئی ہے، جبکہ افغان اور امریکی افواج کے حملوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔

زمینی صورتحال پر نظر رکھنے والے افغان، مغربی اور خود مختار عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طالبان حملوں میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شدت پسندوں کو فروری میں طے کئے جانے والے سجھوتے کی قصداً کوئی خاص پرواہ نہیں ہے۔ سجھوتے میں طے پوا تھا کہ تشدد میں کمی کی جائے گی۔

جنگ سے تباہ حال ملک میں جاری یہ تشدد ٹھیک اسی وقت رونما ہو رہا ہے جب کرونا وائرس کا پھیلاؤ، افغانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

وہ چار صوبے جہاں کرونا وائرس کا پھیلاؤ سب سے زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے، وہین حالیہ ہفتوں میں طالبان نے سب سے زیادہ حملے کئے ہیں۔ یہ قندھار اور بلخ صوبے ہیں ہرات، کابل، ق

مغربی سفارتکاروں، سیکیورٹی عہدیداروں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سےاس وبا کے دوران، آہستہ آہستہ دیہی علاقوں میں حکومتی کنٹرول ختم کرنا اور پھر شہری علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی حکمت عملی سے، امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

امریکی فوج اور کانگریس کو افغانستان کی صورتحال پر اپنی رپورٹ پیش کرنے والے، سینٹر فار نیول انیلیسز سے وابستہ ماہر، جونیتھن شروڈن کہتے ہیں کہ طالبان بڑی آہستگی سے افغانستان کے تمام بڑے شہروں کے گرد گھیرا ڈال رہے ہیں۔ اب یا تو وہ اپنا من پسند معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا پھر بڑے شہروں پر اپنا گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیں گے۔

طالبان باغیوں کے دو ترجمانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والے حملوں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ افغان افواج کی مدد کر کے معاہدے کی پاسداری میں طے شدہ پانچ ہزار قیدیوں کے تبادلے میں پس و پیش کر کے معاہدے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج اور نیٹو کے نان کامبیٹ ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے سربراہ جنرل سکاٹ ملر نے گزشتہ ماہ قطر میں طالبان وفد سے ملاقات کی۔

سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جنرل ملر نے طالبان لیڈروں کو سخت وارننگ دی کہ وہ افغان افواج پر حملوں سے باز رہیں اور معاہدے کی پاسداری کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG