رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان قیدیوں کے مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا صدارتی حکم


افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے طالبان اور دوسر ے عسکریت پسندوں سے وابستہ تمام قیدیوں کے مقدمات کا از سرِنو جائزہ لینے کا حکم جاری کیا ہے۔

پچھلے ہفتے کابل میں ہونے والے قومی امن جرگے میں ملک میں تقریباََ نو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جو مطالبات کیے گئے تھے اتوار کو جاری ہونے والا صدارتی حکم نامہ اُنھیں پورا کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔

صدر کرزئی کے دفتر نے کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لینے والی کمیٹی میں سپریم کورٹ ، حکومت کے قا ئم کردہ مصالحتی کمیشن اور وزارت انصاف کے عہدے داروں کے علاوہ دوسر ے عدالتی افسران کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔

لگ بھگ 1600 افغان سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے کابل میں ہونے والے تین روزہ جرگے میں شرکت کی تھی ۔ جمعہ کو جرگے کے اختتامی سیشن میںمنظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ افغان اور غیر ملکی افواج کی حراست میں ایسے افراد کو رہا کردیا جائے جنہیں ناکافی شواہد کے باوجود قیدمیں رکھا گیا ہے۔

قراداد میں ایک ایسے کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کی قیادت کرے۔ لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان باغیوں نے امن بات چیت میں شمولیت کو افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی سے مشروط کر رکھا ہے۔

امن جرگے میں منظور کی گئی قرارداد میں امن کے عمل میں شامل ہونے کے خواہشمند طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ القاعدہ اور دوسرے دہشت گروہوں سے اپنا تعلق ختم کردیں۔ اس کے علاوہ امن عمل میں شمولیت اختیار کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لِسٹ سے خارج کرنے کا مطالبہ بی قرارد کےمیں شامل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG