رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: 11 مسخ شدہ نعشیں برآمد


افغان پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ملک کے جنوبی حصے میں ایک علاقے سے11 عام شہریوں کی مسخ شدہ نعشیں ملی ہیں۔ حکام نے ان ہلاکتوں کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔

یہ نعشیں صوبے ارزگان کے ضلع خاص ارزگان کے علاقے سے بازیاب ہوئیں۔ مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان سے کچھ یا سب نعشیں سربریدہ تھیں۔

صوبائی پولیس کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ طالبان نے جاسوسی یا افغان حکومت کے لیے کام کرنے کا الزام لگانے کے بعد ان لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ تشدد کے دو اور واقعات میں اس کے دو ملازم ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ جمعے کےروز ملک کے مشرقی حصے میں شورش پسندوں کے حملے اور دوسرا ملک کے جنوب میں ایک روز قبل سڑک پر بم پھٹنے کا تھا۔

اس مہینے کے دوران اب تک نیٹو کے کم ازکم 81 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ 2001ء سے ، جب سے افغان جنگ شروع ہوئی ہے، جون بین الاقومی فورسز کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ ثابت ہوا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے جمعرات کے روز صوبے قندھار میں ایک کاروائی کے دوران ایک درمیانی سطح کے طالبان کمانڈر سمیت متعدد شورش پسندوں کو ہلاک کردیا ۔ طالبان کمانڈر ، جس کا نام فیض اللہ بتایا گیاہے، سڑک کنارے ہونے والے کئی بم دھماکوں اور مارچ میں ایک اتحادی فوجی کی ہلاکت کا ذمہ دار تھا۔

نیٹو کی جانب سے جنوبی شہر قندھار اور آس پاس کے علاقوں سے طالبان عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے ایک مجوزہ فوجی کاروائی سے قبل عسکریت پسندوں نے اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG