رسائی کے لنکس

افغانستان: طالبان کے حملے میں کم ازکم چھ افغان محافظ ہلاک


کابل کے نزدیک واقع ائیر بیس بگرام میں ایک خودکش حملے کے بعد فوجی معائنہ کررہے ہیں۔ فائل فوٹو

ضلع بگرام کے گورنر عبدالشکور قدوسی نے کہا ہے کہ ماضی میں بگرام فضائی مرکز پر اکا دکا افغان کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلح فورس نے انہیں گروپ کی شکل میں اپنا نشانہ بنایا ہے۔

افغانستان نے مسلح طالبان نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے کم ازکم 6 افغان محافظوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ ایک گاڑی میں امریکی فوجی مرکز اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔

افغانستان میں امریکی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ یہ حملہ پیر کی شب کابل کے نزدیک اس گاڑی پر کیا گیا جو محافظوں کو امریکی فوجی مرکز بگرام لے جا رہی تھی۔ اس حملے میں دو محافظ زخمی بھی ہوئے۔

افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس حملے میں 8 محافظ ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

ضلع بگرام کے گورنر عبدالشکور قدوسی نے کہا ہے کہ ماضی میں بگرام فضائی مرکز پر اکا دکا افغان کارکنوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلح فورس نے انہیں گروپ کی شکل میں اپنا نشانہ بنایا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کے ایک گروپ نے یہ حملہ فوجی مرکز کے قریب پیر کو نصف شب کے لگ بھگ کیا۔

پچھلے سال نومبر میں بگرام ایئر بیس پر کا م کرنے والے ایک افغان کارکن نے خود کو بارودی مواد سے اڑا لیا تھا جس سے 4 امریکی ہلاک اور کم ازکم 17 لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے سے پہلے بگرام مرکز پر تین ہزار سے زیادہ أفغان کارکن کام کرتے تھے جس کے بعد سے ان کی تعداد گھٹا کر تقریباً نصف کر دی گئی۔

گورنر قدوسي نے بتایا کہ أفغانستان میں اس وقت لگ بھگ 8400 امریکی فوجی موجود ہیں، جب کہ اتحادی ملکوں سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی تعداد 6500 سے زیادہ ہے۔ زیادہ تر فوجی أفغان فورسز کو تربیت اور معاونت فراہم کرتے ہیں۔

بگرام ایئر بیس پر امریکی فضائیہ کے لڑاکا اور کارگو طیارے بھی رکھے گئے ہیں جو بین الاقوامی فورسز اور أفغان فوجیوں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔

أفغان محافظ زیادہ تر ان مراکز کی بیرونی سیکیورٹی کے فرائض سرا نجام دیتے ہیں جو امریکیوں اور غیر ملکیوں کے استعمال میں ہیں۔ اور وہی اکثر شورش پسندوں کے حملوں کا ہدف بنتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG