رسائی کے لنکس

منگل کو آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت کے مطابق باڑ لگانے کے کام آغاز ہوگیا ہے

پاکستانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے کا کام مرحلہ وار شروع کر دیا ہے۔

فوج کے شعبہٴ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت کے مطابق باڑ لگانے کے کام آغاز ہوگیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے، کیوں کہ ان علاقوں میں دشوار گزار راستوں کو استعمال کرتے ہوئے شدت پسندوں کی آمد و رفت کے امکانات زیادہ ہیں۔

جب کہ دوسرے مرحلے میں دوطرفہ سرحد کے بقیہ حصے بشمول بلوچستان میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں باڑ لگائی جائے گی۔

’آئی ایس پی آر‘ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے علاوہ نگرانی بڑھانے کے لیے اضافی چوکیوں اور قلعے بھی بنائے جا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق، محفوظ پاک افغان سرحد دونوں ملکوں اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پاکستانی حکام حالیہ برسوں میں افغانستان سے ملحقہ اپنی سرحد کی نگرانی بڑھانے پر بات کرتے رہے ہیں اور اس کے لیے پہلے ہی سرحدی چوکیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور اب پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے اور اس کی طوالت لگ بھگ 2600 کلومیٹر ہے۔

پاکستان کی طرف سے دوطرفہ سرحد پر باڑ لگانے کے عمل پر افغانستان کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

افغان حکام کہتے رہے ہیں کہ اُن کے ملک نے پاکستان کے ساتھ سرحد ’ڈیورنڈ لائن‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ جب کہ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ’ڈیورنڈ لائن‘ ایک حل شدہ معاملہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG